خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 198

197 وہ اپنے ہاتھوں سے پرے پھینک دے گی اور اپنے بچے کو اپنے گلے سے لیٹا کہ پیار کرتے ہوئے کہینگی کہ میرے پیارے بچے تو رو نہیں میں تجھے دوائی نہیں پلاتی۔یہاں عمل محتلت ہے مگر جذبہ ایک ہے۔وہ تعلیم یافتہ عورت دوائی پلاتے وقت اور وہ جاہل عورت دوائی پھینکتے وقت ایک ہی روح سے متاثر ہو رہی تھیں ایک دوائی کے پلانے میں اپنے بچے کا آرام دیکھتی تھی تو دوسری دوائی کے ھینکنے میں اس کی راحت پاتی تھی پپس تم اس قسم کے فرق تو ضرور دیکھو گے لیکن جند بہ کا فرق کہیں نظر نہ آئے گا۔کالے اور گورے ، مشرقی اور مغربی ، جاہل اور عالم، مذہبی اور خیر نہ سہی ، ہر ایک قسم کے انسان کو اس جذبے سے متاثر پاؤ گے اور ان کو اسی جذبہ کے ماتحت اپنی زندگیاں بسر کرتے ہوئے دیکھو گے ہیں اولاد کی محبت ایک ایسا طبیعی چند یہ ہے جو صرف دیوانوں اور انسانیت سے خارج انسانوں کے دلوں سے ہی باہر ہوتا ہے ورنہ ہر انسان اس سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے ماتحت اپنی ز ندگی کے اعمال بجالاتا ہے۔خواہ خدا تعالے کی خوشنودی کے لئے خواہ صرف حیوانی جذبہ سے متاثر ہو کر۔پس آج کی عید ہمیں اس جذبے کی قربانی کی طرف راہنمائی کرتی ہے جو انسانی جذبات میں سے قوی تر اور وسیع تر ہے قوی ہے کہ اس سے زیادہ قوی کوئی اور انسانی جذبہ نہیں۔اور وسیع ہے کہ اس سے زیادہ وسیع کوئی اور انسانی جندہ یہ نہیں۔آج کے دن ہزاروں سال پہلے ابراہیم نے خدا سے حکم پایا کہ وہ اس چیز کو بس کو دنیا سب سے زیادہ عزیز قرار دیتی ہے اور جس کی زندگی کے لئے دنیا بھر کے باپ اور ماں زندہ رہ رہے ہیں، وہ خدا کے لئے اسے قربان کر دے۔ابراہیم کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنے رب سے یہ نہیں پوچھا کہ اے گیگر خدا ایہ جذبہ لطیف جو باپ کے دل میں اپنے بیٹے کی محبت کے متعلق پیدا ہوتا ہے یہ تو تیرا ہی پیدا کیا ہوا ہے اور ایک مقدس امانت ہے اس مقدس امانت کی قربانی کا مطالبہ کیا ایک غیر طبعی حکم نہیں ہے اور کیا اس ماں کے جذبات کو جس کی تمام امیدیں اس ایک نقطہ کے ساتھ وابستہ ہیں، ایک ایسی ٹھیس نہیں لگے گی جس کا ازالہ بالکل ناممکن ہوگا۔ابراہیم بھول گیا اپنے جذبات کو اور وہ بھول گیا ہاجرہ کے جذبات کو۔وہ بھول گیا اپنے آباء کی ارواح کے جذبات کو جوا بر اہمیت کے ذریعہ سے اپنی نسلوں کے دوام کی امید وار تھیں اور ایک ایسی حالت میں جب کہ وہ بوڑھا تھا اور ایک نہی اس کی اولاد تھی وہ اس ایک ہی اولاد کو ایسے وقت میں جبکہ دوسری اولاد کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔قربان کرنے کے لئے تیار ہو گیا بغیر ہچکچاہٹ کے بغیر سوال کے بغیر تشریح طلب کرنے کے بے چون و چرا۔گویا کہ یہ ایک ایسا عام واقعہ ہے جس میں کوئی بھی تعجب کی بات نہیں یا ایک ایسا فرض ہے