خطبات محمود (جلد 2) — Page 163
تمہیں موقع دیا ہے اس موقع کی قدر کرو اور اسے ضائع نہ ہونے دو۔میں اللہ تعالے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔اور نہ صرف ہمیں اپنے نفوس کی اصلاح کا موقعہ دے بلکہ ہمیں دوسروں کی اصلاح کا جذبہ بھی عطا فرمائے۔اور اس عظیم الشان موقع سے جو بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوا کرتا ہے۔فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔یہ ایسا مبارک وقت ہے کہ رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ اس وقت ایمان لانے والے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل ہوگئے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس کا فضل ہمارے شامل حال ہو اور وہ ہماری ناچیز قربانیوں کو قبول فرما کر ہمیں اپنی ان نعمتوں کا وارث بنائے تو پہلے لوگوں کو حاصل ہو چکی ہیں۔والفضل ۱۶ را سیریل ۱۹۳۳ء ۵ تا نا) ے مراد البوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔پیدائش باب ۱۱ آیت ۲۷ تا ۳۱ - در ه - الانعام -۲: ۷۵ - تفسیر در منشور ہے ، جیوش انسائیکلو پیڈیا بسته سه - خویش انسائیکلومیٹڈ یا جلد اصل زیر لفظ ASRAAN شه - صحیح بخاری کتاب المناقب باب حدیث زید بن عمرو بن نفیل - الانبياء ۲۱ : 49-6 - قدسی العرفان في تفسير سورة النجم من القرآن منحة شه غالبا سو کتاب ہے ایک دایت کے مطابق حضرت لوط الوان ضیاء ابراہیم الاسلام کے ا ا ا ا ا ا ت ا ر ا ا ا ا ا ا ا وانا الیہ ش - پیدائش باب ۱۱ آیت ۲۷ پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۲۳ جلد )۔حضرت ابراہیم علیہ السلام پہلے اور میں رہتے تھے جو عراق کے علاقہ میں تھا۔وہاں سے مار آن کی طرف جو بالائی عراق میں واقع ہے تشریف لے گئے۔اور وہاں سے خدا تعالے کے حکم کے ماتحت کیا ہے کی طرف ہجرت کی۔تاریخ طبری شے کی رو سے آپ نے ارض شام کی طرف ہجرت کی تھی۔ہود ۷۶:۱۱ ه - التوبه ۹ : ۱۱۴ - سلام - ابرا سیم ۱۳: ۳۸ - الحج ۲۳ : ۷۹