خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 140

۱۴۰ پیچھے دیکھا اور بے اختیار پکار اُٹھا، آپ کے پیچھے کی دیوار یکتی ہے۔اور انہوں نے کہا۔تمہارے پیچھے بھی کچی ہے اور ہم بڑے خوش ہو گئے تو خطرات کے موقع پر آپس میں تعاون کرنا بہت خیر و برکت کا موجب ہوا کرتا ہے۔جب تم اپنے بھائی کو اس وقت جبکہ اس کی عقل ماری جائے نصیحت نہیں کرتے تو تم پر ایسا وقت آنے پر وہ بھی نہیں کرے گا۔اور اگر تم اسے بری راہ پر لگانے کی کوشش کرتے ہو تو وہ بھی ایسا ہی کرے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں تباہ ہو جاؤ گے پس جب تمہارے کسی بھائی پر ایسی مصیبت آئے کہ وہ اپنا انتہائی حق مانگنے پر مصر ہو ، کسی احمدی سے یہ تو امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ حق کے سوا بھی کچھ مانگے ، لیکن جب وہ اپنا حق لینے پر مصر ہو تو اسے بجھاؤ کہ وہ تفرقہ سے بچنے کے لئے قربانی کرے تا تم پہ اگر ایسی حالت آئے تو تمہارا دوست یہ سو چکہ کہ اس نے مجھے جنت کا راستہ دکھایا تھا میں بھی اسے دکھاؤں تمہاری مدد کو آئے۔اور کسے مجھ پہ بھی ایک وقت ایسا آیا تھا جیسا اب تم پر ہے اس وقت تم نے میری دستگیری کی تھی اور صحیح راستہ دکھایا تھا اب تم پر رہی مصیبت ہے اس لئے میں تمھیں بھی صیحت کرتا ہوں کہ بھائی کی رعایت کر دی یہی وہ ذریعہ ہے جس سے قربانی کی روح پیدا ہو سکتی ہے۔پس یا د رکھو کہ حقیقی ترقی کی راہ یہی ہے کہ بھائی کو مصیبت کے وقت قربانی کی تلقین کرو۔میں اللہ تعالے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں، ایسا کرنے کی توفیق دے۔حقیقی تربانی وہی ہے جو تقوی اللہ کی وجہ سے کی جائے اور جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور باہمی اتحاد کے لئے ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔تا وہ مقام جو ایک طرف اس سے ملاتا ہے اور دوسری طرف تمام دنیا کو بھائی بھائی بناتا ہے، ہمیں حاصل ہو جائے۔والفضل به ارمئی ۱۹۳ مشاه 114 ه - روحانی خزائن جلد ار صحیہ تحفہ گولڑدیم مش - ملفوظات جلد هم منشا حاشیه ے۔تذکرہ طبع سوم ماه و ماه سے ہر طرف آواز دنیا ہے ہمارا کام آج ہے جس کی فطرت نیک ہے آئیگا وہ انجام کار کا دیر امین احمدیہ حصد نجم من سے میٹری انڈر یا ساجو سماٹا میں ڈچ آفیسر تھے اجڑ میں ڈچ قونصل مقر ہے تو وہاں جاتے ہوئے ارین شاہ کو تاوان بھی تشریف لےگئے شه - علم الامراض "مصنفہ میر اشرف علی ملک ۲ و الفضل د را بریل و می شه مفتح اسلام ۳۰ مطبوعہ لاہور ست ۱۹ شه - جامع ترمذی ابواب البيوع باب ما جاء في ترك الشبهات شه سنن دارمی الجزء الثانی ۳۳۲ مطبوعہ دمشق ۳۱۳۲۹ -