خطبات محمود (جلد 2) — Page 126
قربانی جائز اور ضروری ہوگی ہاں اگر انسان پر خود کوئی مصیبت ہو تو وہ نہ کرے لیکن اگر توفیق ہو تو ضروری ہے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک شخص سو دن گوشت کھاتا ہے یا کھانے کی کوشش کرتا ہے مگر اسے اسلام کی حالت اور غربت اور خدمت دین اور اس روپیہ کو خدا کی راہ میں خرچ کرینے کا خیال پیدا نہیں ہوتا لیکن ایک دن خدا کے لئے اسے کھانا پڑتا ہے تو اسے دین کے راستہ ہیں خرچ کرنے کا خیال آتا ہے۔جب اپنی خواہش سے کھاتا تھا اس وقت تو اسلام کی مصیبت بھولے ہوئے تھا لیکن خدا کے حکم سے کھانا پڑا تو خدمت اسلام یاد آگئی۔جب اپنا نفس کہتا ہے کہ گوشت کھاؤ تو یہ ضرور کھاتا ہے لیکن جب خدا نتا ہے حکم دیتا ہے تو کتنا ہے یہ اسراف ہے اسے کسی طرح نیک خیال کیا جاسکتا ہے۔یقینا یہ وسوسہ شیطانی ہے۔پس جس کو توفیق ہو وہ قربانی ضرور کرے اور لوگ عید کے دن کھا نہیں نہیں تا کہ ان کے دلوں سے مایوسیاں دنہ ہوں اور امنگیں پیدا ہوں اور خیال ہو کہ خدا تعالے نے ان کے کھانے پینے کے دن بھی مقرر کئے ہیں۔خدا تعالے ہمیں توفیق دے کہ ہم اس عید کی حقیقت کو سمجھیں اور ہمیں ایسی بستر بانیاں کرنے کی توفیق دے جس کے نتیجہ میں یہ غیر حضرت ابدا عليه الصلوۃ والسلام کی قربانی کی یادگار ہے نا والفضل و ارجون مسئله ما : شه به سنن نسائی کتاب سلوة العيدين باب القصد في الخطبة۔ے۔یہ جزیرہ نمائے عرب کا قدیمی شہر ہے جو بیت اللہ شریف کی وجہ مرجع خلائق ہے۔۷۸ درجے طول عید اور ۲۳ در جے عرض بلد پر واقع یہی وہ مقدس ہستی ہے جہاں فخر موجود است حضرت محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تھے کہتے ہیں کثرت ازدحام کی وجہ سے مکہ کا نام بکہ بھی ہے معجم البلدان ہیں) اسے ام القرنی بھی کہا گیا ہے (الانعام 4: ۹۳) اس کا ایک نام البلد الامین والنتین ۹۵ : ۴ بھی رکھا گیا ہے۔اس میں خانہ کعبہ وہ پہلا گھر ہے جو عبارت حج کے لئے تعمیر کیا گیا ہے وآل عمران ۳: ۹۰) اسے ۲ - بیت العقیق را مج ۳۰:۲۲) ۳۔بیت الحرام ومائده ۵ : ۱۹۸ اور ۴۔بیت المعمور والطور ۵:۵۲) بھی کیا گیا ہے۔ے۔مکہ سے عرفات کی جانب قریباً سو میل کے فاصلہ پر پہاڑیوں میں گھری ہوئی ایک سہتی ہے۔جہاں حاجی قربانیاں کرتے اور جمرات پر کنکریاں پھینکتے ہیں۔ہے۔ایک کشادہ میدان جو منی سے شرقی جانب تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے اس میں بطن مستر ایک خاص مقام ہے جہاں اصحاب فیل بلاک ہوئے تھے۔اور ذوالحجہ غروب آفتاب کے بعد حاجی یہاں مشعر الحرام میں قیام کرتے اور صبح کی نماز کے بعد منی پہلے جاتے ہیں۔