خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 103

١٠٣ لڑکا بھی اکلوتا لڑکا اور وہ بھی جو بڑھاپے میں ہوا۔یہ تو خدا کا فضل تھا کہ اس کے بعد اسحق بھی پیدا ہو گیا ورنہ امید نہیں تھی۔اس وقت ایک ہی لڑکا تھا اور وہ اسمعیل تھا۔خدا نے جب س کی قربانی کرنے کو کہا تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اس کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اب نہ اولاد، نه دوست کہ ماں باپ تھے جو قربان کرنے سے رہ گئے۔انہوں نے خدا تعالی کی فرمانبرداری کے لئے ان میں سے کسی کی پرواہ نہ کی۔وہ سب کو قربان کرنے کے لئے تیار تھے۔دوست بھی ، ماں باپ بھی ، اولاد بھی اور ساری اولاد، اس وقت اسمعیل ساری اولا دہی تھی۔ماں باپ اور دوستوں کو قربان کر دیا۔وطن کو چھوڑ دیا۔اب کوئی رشتہ دار بھی نہیں مل سکتا تھا تو اس ساری قربانی کی یاد گار ہیں اس عید کو قائم کیا گیا۔اس قربانی کی حقیقت بنانے میں بائیبل اور قرآن میں فرق ہے۔بائیبل جس رنگ میں اسے بیان کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تحریف ہو گئی ہے۔لیکن قرآن کریم اسے جس عمدگی کے ساتھ بیان کرتا ہے اس سے اس واقعہ کی اصل حقیقت معلوم ہوتی ہے۔بائیبل کہتی ہے۔کہ خدا نے ابراہیم کو حکم دیا کہ اپنے اکلوتے اسحق کو قربان کر یہ ابراہیم نے کہا۔قربانی کے لئے سامان نہیں۔خدا نے کہا۔یہ قربانی ضرور کرنی چاہیئے۔تب ابرایم اسحق کو باہر لے گئے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔اور قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ابھی چھڑی پکڑی ہی تھی کہ خدا تعالے کے فرشتے نے آواز دی۔اس کو مت قربان کر اور ایک مینڈھا اس کے عوض قربان کرنے کے لئے وہاں موجود کر دیا گیا ہے مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کو حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ لڑ کے کو قربان کریں۔بلکہ آپ نے رویا دیکھی تھی کہ وہ اپنے لڑکے کو خدا تعالے کی راہ میں ذبیح کر رہے ہیں۔اور اس رڈیا کی بناء پر وہ اپنے لڑکے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔بائیل کہتی ہے بیشک قربان نہیں کیا گیا مگر یہ ایک آزمائش تھی جو حضرت ابراہیم علیہ اسلامی کی گئی ہے لیکن ہم کہتے ہیں آزمائش کس طرح ہوگئی کیونکہ آزمائش و و طرح ہوتی ہے۔یا تو جس کی آزمائش کی جائے۔اسے بتانے کے لئے کہ تیرا ایمان پختہ ہے۔یا دوسرے لوگوں کو بتانے کے لئے کہ یہ خدا تعالے پر ایمان رکھنے میں اتنا مضبوط ہے لیکن جو آزمائش استلاء ہوتی ہے وہ بنی پر نہیں آتی۔رہی قربانی ، با مبل کہتی ہے کہ یہ پوشیدہ قربانی ہوئی ہے کیونکہ ملی ہوئی نہیں۔اور اگر فی الواقع ہوئی نہیں تو یہ بات ہی لغو ہو جاتی ہے۔رہی تیسری قسم کہ علی الاعلان قربانی ہو۔مگر علی الاعلان ہوئی نہیں توان صورتوں میں اگر اس پر غور کیا جائے تو یہ المهام اگر حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کو ہوا کہ لڑکے کی قربانی کر تو ہے وجہ ہوا تھا کیونکہ جب وہ قربانی فی الواقع ہوئی نہیں تھی تو ایک ایسی بات کے لئے کسی کو کچھ کہنا جو کچھ کر نی ہی نہیں بالکل بے وجہ ہے میگر قرآن شریف ان سب باتوں کے