خطبات محمود (جلد 2) — Page 91
او ۱۴ فرموده ۲۲ جون ۱۹۹۲ به مقامه وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَا بَرَاهِيمَ، إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ إِذْ قَالَ لابِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ : اسْمَكَا أَلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُ ونَهُ فَمَا فَنَّكُمْ بِرَبِّ الْعَلَمِينَ ، فَنَظَرَ نَظَرَةً فِي النُّجُومِهُ فَقَالَ إِنِّي سَقِيمُه فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ ، فَرَانَ إِلَى الهَتِهِمْ فَقَالَ الآنَاكُلُون مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ ، فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ ، فَاقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِنُونَ ، قَالَ اتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَهُ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ ۔ قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَالْقُوهُ فِي الْجَحِيمِهِ فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَهُمُ الْأَسْفَلِينَ، وَقَالَ إِنّى ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ ، فَبَشَّرْنَهُ بِغُلْمٍ عَلِيمٍ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يُبْنَى إِلَى أَرَى فِي الْمَنَامِ آتِي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى ، قَالَ يَابَتِ افْعَلَ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصبرين، فَلَمَّا أَسْلَمَا وَ تَلَّهُ لِلْجَبِينَهُ وَنَا دَيْنَهُ أَنْ يَا بَرَاهِيمَ قَدْ صَدَقْتُ الدُّنْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ وَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلُوا الْمُبِينُهُ وَنَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ وَ سَلَمَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ میں نے اس وقت جو چند آیات اللہ تعالے کے مقدس اور بادی کلام میں سے پڑھی ہیں وہ خصوصیت سے اس دن کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جو آج ہم پر گذر رہا ہے ۔ یہ دن اسلامی اصطلاح کی رو سے عید کا دن ہے۔ اور اس کا تعلق خصوصیت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی یادگار کے طور پر خصوصیت کے ساتھ اس دن کی یاد کو تازہ رکھا جاتا ہے۔ خصوصیت سے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں سے آگاہ ہونا انسان کے لئے نا ممکن ہے ۔ ہم نہیں کر سکتے کہ کسی کام کے متعلق اس کی کیا حکمت ہے اور پھر ایک ہے یا کئی حکمتیں ہیں۔ البتہ جو بتا دی جاتی ہیں ان کے متعلق ہم کسی حد تک کچھ کہہ سکتے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالے کے ہر کام میں کچھ سکتیں ہوتی ہیں۔ عید اضحی کے دن میں بھی بعض محکمتیں ہیں ان میں سے بہت بہنی