خطبات محمود (جلد 2) — Page 84
۸۴ آج کل جب کہ بندوقیں ہیں بہت دفعہ لوگ شکار کو جاتے ہیں۔ اور خالی ہاتھ واپس آجاتے ہیں لیکن اس زمانہ میں تو تیرا در نیزے کے ساتھ شکار کیا جاتا تھا۔ اس سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ کتنی دفعہ ان کو خالی ہاتھ واپس آنا پڑتا ہوگا اور کتنے فاقے کاٹتے ہوں گے ۔ مگر یہ سب کچھ انہوں نے خدا کے لئے برداشت کیا۔ اور خدا نے ان کو نبوت کے مرتبے پر پہنچایا ۔ انہی کی قربانیوں کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کی نسل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اولوالعزم رسول پیدا ہوئے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کتنی مشقت اٹھائی۔ ابھی آپ ماں کے پیٹ میں ہی تھے، آپ کے والد فوت ہو گئے ۔ پھر بھی اڑھائی سال کے تھے کہ والدہ کا سایہ بھی آپ کے سر سے اٹھ گیا ہے پھر دادا پر درسش کرنے لگے۔ لیکن ابھی آپ سات ہی برس کے تھے کہ وہ بھی رحلت کر گئے تو پھر چچا آپ کے متکفل ہو گئے۔ غرض آپ کی یہ زندگی آرام سے نہ ن آرام سے نہیں گذری قسم قسم کی تکلیفوں اور مشقتوں میں سے آپ کا گذر ہوتا رہا۔ تاریخ میں لکھا ہے آپ کی بچی جس وقت بنچوں میں کوئی چیز تقسیم کرنے لگتی تو سب بچے اس کے گرد جمع ہو جاتے ۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الگ کوئے کونے میں خاموش بیٹھے رہتے جب رہتے جب رب بچے لے چکتے تو پھر وہ ان کو بھی حصہ دیتیں ہے گو وہ محبت سے آپ کی پرورش کرتی تھیں اور آپ کو عزیز رکھتی تھیں۔ مگر جو خوشی بچے کو اپنے گھر میں ہو سکتی ہے وہ دوسری جگہ نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جو تعلق بچے کو اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اور جو ناز وہ ان پر کرتا ہے۔ خواہ دوسرا کتنی بھی محبت کرے بچہ اس سے نہیں کر سکتا۔ بے شک یہ بات بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے وقار کی وجہ سے خاموش بیٹھے رہتے تھے ۔ مگر یہ بات بھی تو ہے کہ آپ اس بات کو بھی طبعا محسوس کرتے تھے کہ ان کا رشتہ وہ رشتہ نہیں جو ماں باپ کا ہوتا ہے تو انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کو بھی خدا تعالیٰ نے با مشقت بنانے کے لئے اس قسم کے سامان پیدا کر دیئے جن میں سے آپ کو گندہ نا پڑا ۔ میں اپنی زندگی پر ہی غور کرتا ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ جو اب غیر مبائع ہو گئے ہیں۔ میرے لئے رحمت کا موجب بن گئے۔ اگر یہ لوگ میرے خلاف نہ اٹھتے اور ہمارے خاندان کو برا بھلا نہ کہتے تو میری توجہ روحانی امور کی طرف اتنی چھوٹی عمر میں نہ پھرتی۔ تو ان کا وجود بھی میرے لئے روحانی ترقی کا سامان بن گیا۔ میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ اور اس عید سے سبق سیکھے ۔ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کو ہمیشہ سکھ حاصل ہو ۔ اور آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کی عیدیں ختم نہ ہوں تو آپ اپنے بچوں کو قربان کریں ۔ اور ان کو دنیا کی ہر قسم کی مشقت برداشت کرنے کی عادت ڈالیں ۔ تاکہ وہ دین اور اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے کسی