خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 83

۸۳ تیری اولاد کو اس قدر بڑھاؤں گا کہ جس طرح آسمان کے ستاروں کو کوئی گن نہیں سکتا۔ اسی طرح تیری اولاد کو اولاد کو بھی کوئی گن نہیں سکے گا۔ چنانچہ آج ہم د چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں اس وعدہ الہی کے مطابق حضرت ابرا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد اولاد کو اتنی کثرت حاصل ہوتی ہے کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کونسی قوم ان کی اولاد میں سے نہیں ۔ تمام دنیا کے لوگوں میں ان کا خون مل گیا ہے اور تمام دنیا ان کی ممنون ہے ۔سینکڑوں قومیں ہیں جو ان کی اولاد میں سے ہونے کی مدعی ہیں ۔ زرتشتی ہیں تو وہ اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ یہودیوں کا تو دعوی ہی ہے کہ وہ ان کی اولاد میں سے ہیں۔ عیسائی بھی انہی کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ۔ اور مسلمان بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آپ کی نسل ہیں۔ آپ کی نسل میں سے ہونے کی وجہ - سے ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ خدا تعالٰے نے ان کی اس قربانی کے بدلے ان کی اولاد کو تعداد کے لحاظ سے اور عربت کے لحاظ سے سے اس قدر بز بڑھا یا کہ تمام بڑے ے بڑے مذاہب انہی کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اور ان کی بہت بڑی عزت کرتے ہیں۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کوئی اپنی اولاد کو بڑھانا چاہے تو وہ سچین میں اپنی اولاد کو اسی طرح قربان کرے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بچے کو قربان کیا اور صرف انہوں نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی ہی قربانی نہیں کی بلکہ حضرت اسحق علیہ السلام کی بھی قربانی کی جن کی ایسی تربیت کی کہ بڑے ہو کہ وہ بھی خدا تعالی کے نبی ہوئے اور یہ صاف بات ہے کہ جتنا بڑا کوئی انسان بنتا ہے اتنی ہی زیادہ اسے اس مرتبہ تک پہنچنے کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے ۔ پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دونوں بیٹوں کے متعلق قربانی کی۔ خدا تعالے نے اس قربانی کے بدلے ان کی اولاد کو بے نظیر ترقی اولاد کو بے نظیر ترقی دی اگر تم بھی چاہ ہو کہ تمہاری اولاد ترقی کرے تو تم بھی اپنی اولاد کو قربان کرو۔ اس سے ایسی محبت نہ کہو جو تم کو ان کی اصلاح اور علوم کے سکھانے سے باز رکھے اور تم ان کی نگرانی چھوڑ دو۔ اگر تمہیں یہ خواہش ہے کہ تمہاری نسل بڑھے اور ترقی کرے تو سجائے ان کے آرام اور آسائش کی فکر کے ان کی روحانی تربیت کرنی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد بھی اسی طرح ترقی کرے اور آسمان کے ستاروں کی طرح گنی نہ جائے تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو بچین میں آوارہ ، آرام طلب، کاہل اور سست نہ بنائیں۔ بلکہ ان کے اعمال اور اخلاق کی پوری پورتی نگرانی کریں ۔ ور خیال کروا حضرت اسمعیل علیہ السلام کی ین بچین کنی کی زندگی کی کس طرح گری گذری اورانہوں اور انہوں نے نے کس السلام کی قدر مشقت اٹھائی ۔ انہیں تو خوراک حاصل کرنے کیلئے بھی جنگلوں میں پھرنا اور شکار کر کے عم پیٹ پالنا پڑتا تھا یہ شکار بندھے ہوئے جانوروں کا جانوروں کا تو کیا نہیں جاتا کہ گئے اور پکڑ کر لے آئے۔