خطبات محمود (جلد 2) — Page 81
M اور اس کا بچہ اس کا قائم مقام ہو یا ایک درخت تباہ ہوا اور دوسرا درخت اس کا قائم مقام قرآ پائے۔ یہ اسی لئے ہوتا ہے کہ کوئی وجود ہمیشہ کے لئے قائم نہیں رہ سکتا ۔ اور ہر ایک نوع کا قیام اس کی جنس کے قیام کے ساتھ وابستہ ہے۔ آم کا درخت فنا ہوتا ہے مگر چونکہ اس کے قائم مقام اور آم کے درخت پیدا ہو جاتے ہیں اس لئے وہ اپنی نوع میں فنا نہیں ہوتا ۔ اسی طرح سنگترہ کی جگہ سنگترہ گیہوں کی جگہ گیہوں ، چاولوں کی جگہ چاول پیدا ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کا وجود دنیا میں قائم رہتا ہے کیونکہ جب جنس قائم رہتی ہے تو گویا وجو د ہی قائم رہتا ہے۔ کسی استاد کے مرنے پر اس کے لائق اور ہوشیار شاگرد کی موجودگی میں کہا جاتا ہے کہ جس استاد کا ایسا لائق اور ہوشیار شاگرد موجود ہو وہ نہیں مرا۔ اسی طرح جو جماعت کہ دین کا دور روحانیت کی حامل ہوا اگر اپنے پیچھے ایسی فلمیں چھوڑ جائے جو دین کی اور روحانیت کی حامل ہو۔ تو وہ جماعت بھی زندہ جماعت ہوتی ہوتی ہے اور ایسی جماعت یا یا قوم کبھی نہیں مرتی۔ پس اگر ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں اور احمدیت کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا صرف یہی طریق ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو عید کے اس دن سے جو سبق حاصل ہوتا ہے وہ یاد کرائیں اس عید سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ عید ہمیں ایک پرانا واقعہ یاد دلاتی ہے جو ابوالا نبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام سلام کا کا واقعہ ہے۔ وہ واقعہ ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ ہماری جماعت کسی طرح قائم رہ سکتی ہے اور ہماری آئندہ نسلیں کس طرح ترقی کر سکتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالے نے رویا اور الہام میں یہ حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو ذبح کر دیا اور جدائی کی چھری اس کی گردن پر پھیر دی۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق انہوں نے اپنی بیوی اور بچے کو ایسے جنگل بیابان میں چھوڑ دیا جہاں نہ غلہ تھا نہ پائی۔ نہ کوئی بازار تھا نہ آبادی کو کسی آدمی سے مانگ کر ہی کچھ کھانے پینے کو میتر اسکتا۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالے سے الہام یا کہ اپنے بچے اور اس کی ماں کو مکہ مکرمہ کی زمین میں جو اس وقت بالکل خیر آباد وادی تھی ھر ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک تھیلی کھجوروں کی دے کر چھوڑ آئے ہیں جب آپ واپس آنے لگے تو حضرت ہاجرہ نے پوچھا آپ کہاں چلے ہیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام و فور غم کی وجہ سے کوئی جواب نہ دے سکے۔ حضرت ہاجرہ نے پھر دریافت کیا اس جنگل میں آپ نہیں کہاں چھوڑ چلے ہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام زبان سے پھر بھی کچھ جواب نہ دے سکے۔ آخران کے متواتر پوچھنے پر اشارہ سے انہوں نے یہ جواب دیا کہ خدا کے حکم سے میں تم کو یہاں چھوڑ چلا ہوں ۔ تب حضرت ہاجرہ نے کہا کہ اگر خدا کے حکم سے آپ ہمیں یہاں چھوڑ چلے ہیں تو پھر نہیں آپ کی حفاظت کی ضرورت