خطبات محمود (جلد 2) — Page 73
وام جماعتیں تھوڑی تھیں، احباب بیرون جات سے نہیں آتے تھے ۔ اس لئے ریل کے وقت کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔ کیونکہ ریل تو کسی کے اختیار میں نہیں تھی ۔ اور نو یا ساڑھے نو بجے بٹالہ میں ریل سے اتر کر یہاں پہنچ جا جاتے تھے اور اس صورت میں انتظار جا میں انتظار جائز ہے ۔ اور اگر ضرورت ہو تو زوال تک بھی انتظار ہو سکتا ہے۔ لیکن اب یہ حالت نہیں ۔ یہ جگہ ہماری جماعتیں کافی تعداد میں ہو گئی ہیں اس طرح انتظار کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اب اگر ہو گا تو محض سستی سے ایسا کیا جائے گا۔ چونکہ احیاء بنت ہمارا فرض ہے اس لئے عید کی نمازیں مطابق سخت ہونی چاہئیں ۔ اور اس عید میں جلدی کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ لوگوں نے قربانی کرنی ہوتی ہے۔ ہے۔ اور اور اور رسوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ قربانی کے گوشت سے کھانا کھاتے تھے ۔ اب اگر اس وقت نماز پڑھی جائیگی تو قربانی کا گوشت کھانے کے وقت تک تیار نہیں ہو سکتا ۔ قربانی کے جانوں کے لئے یہ شرط ہے کہ مجھ سے وغیرہ دول کے ہوں۔ دنبہ اس سے چھوٹا بھی قربانی میں دیا جا سکتا ہے۔ قربانی کے جانور میں نقص نہیں ہونا چاہیئے ۔ لنگڑا نہ ہو۔ ہمیار نہ ہو ۔ سینگ ٹوٹا نہ ہو یعنی سینگ بالکل ہی ٹوٹ نہ گیا ہو ۔ اگر خول اوپر سے اُتر گیا ہوا اور اس الله کا مغز سلامت ہو تو وہ ہو سکتا ہے ۔ کان کٹا نہ ہو لیکن اگر کان زیادہ کیا ہوا نہ ہو تو جائز ہے ایسے قربانی آج اور کل اور پرسوں کے دن ہو سکتی ہے لیے لیکن اگر سفر ہو یا کوئی اور مشکل ہوں تو حضرت صاحب کا بھی اور بعض اور بزرگوں کا بھی خیال ہے کہ اس سارے مہینہ میں قربانی ہوتی ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ ان دنوں میں تیسرے دن تک تکبیر تحمید کیا کرتے تھے کیے اور اس کے مختلف کلمات ہیں۔ اصل غرض تعبیر و تحمید ہے خواہ کسی طرح ہو۔ اور اس کے متعلق دستور تھا کہ جب مسلمانوں کی جماعتیں ایک دوسری سے ملتی تھیں تو تکبیریں کہتی تھیں مسلمان جب ایک دوسرے کو دیکھتے تو تکبیر کہتے۔ اُٹھتے بیٹھتے تعبیر کہتے کام میں لگتے تو تکبہ کہتے لیکن ہمارے ملک میں جو یہ رائج ہے کہ محض نماز کے بعد کہتے ہیں اس خاص صورت میں کوئی ثابت نہیں اور یہ غلط را بیج ہو گیا ہے باقی یہ کہ تکبیر کس طرح ہو یہ بات انسان کی اپنی حالت پر حصہ ہے جس کا دل زور سے تعبیر کہنے کو چاہیے وہ زور سے کہے جس کا آہستہ وہ آہستہ مگر آواز نکلنی چاہیئے۔ قربانیوں کے گوشت کے متعلق یہ ہے کہ یہ صدقہ نہیں ہوتا ۔ چاہیے کہ خود کھائیں ۔ دوستوں کو دیں چاہے تو سکھا بھی لیں کہ امیر غریبوں کو دیں ۔ غریب امیروں کو کہ اس سے محبت بڑھتی ہے لیکن محض امیروں کو دینا اسلام کو قطع کرنا ہے اور محض غریبوں کو دنیا اور امیروں کو نہ دنیا السلام میں درست نہیں۔ امیروں کے غریبوں اور غریبوں کے امیروں کو دینے سے محبت بڑھتی ہے ۔ اور رہ