خطبات محمود (جلد 2) — Page viii
د عنا دين خطبات تاریخ فرموده ماعت احمدیہ کی حقیقی عید یہ ہے کہ وہ اپنے خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زندہ ہونا ثابت کرے اور تبلیغ اسلام کی ایسی روح لے کر اٹھے کہ اسلام دنیا کے کونے کونے میں پھیل جائے سم راکتوبر ۱۹۳۹ عید الا صیح اللہ تعالٰی کے اس وعدہ کو یاد دلاتی ہے کہ وہ دین متین اسلام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے گا۔ درود شریف میں جس قربانی کے کرنے کی دعا کی جاتی ہے ۳۱۸ ۱۹۵۰ ۳۲۷ ٢٣ ستمبر عید الاضحیہ ہر سال اُسی کی یاد دلانے کے لئے آتی ہے ا ر ستمبر 1900ء نماز، زکوۃ اور روزے کی طرح حج بھی ایک ضروری فریضہ ہے جس کی ادائیگی کیلئے ہر مسلمان کو اپنے دل میں ایک غیر معمولی ۱۹۵ had جذبہ اور شوق پیدا کرنا چاہیے۔ یکم ستمبر ۳۵۱ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی قربانی کوئی قصہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت اور مشعل راہ ہے جسے ہر سال عید الاضحیہ کے ذریعہ امت مسلمہ کے سامنے پیش ۱۹۵۳ء کیا جاتا ہے۔ ۲۱ اگست ۵ ۳۶۴ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو خدا تعالٰے کے وعدوں کے پیش نظر دنیا کو قربانی اخلاق اور روحانیت کا درس دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی ۔ مکہ معظمہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام نے توحید کا جو جھنڈا بلند فرمایا تھا، وہ قیامت تک قائم رہے گا عید الاضحیہ بڑی عظمتوں والی اور بے مثل عید ہے۔ وار جولائی ۹۵ | ۳۸۸ عید الاضحیہ یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اسلام کی تبلیغ کیلئے باہر نکل جائیں اور ویران دنیا کو روحانیت سے آباد کر دیں تا ہمیں بھی اسمعیلی برکات سے حصہ وافر عطا ہو۔ جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ دین کی راہ میں مسلسل قربانیوں کے ذریعہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو قریب سے قریب کر دیں۔ ۲۹ ر خون شده ۲۴۰۵ در جولانی شد ۳۹۷ ار اگست شهداء ۳۱ جولائی 1909ء ۳۸۷ نمبر شمار ۳۳ ۲۴ ۳۵ ۳۶ ۳۶ ۳۸ ۲۹ ۴۰ ام ۴۲