خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 71

ان ۱۰ فرموده در اگست ۱۹ء بمقام قا دیانا میں آج آپ لوگوں کے سامنے لمبا مضمون بیان کرنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا بلکہ مختصر البعض باتیں بیان کرتا ہوں تا کہ خطبہ عید کی جو نعرض ہے وہ پوری ہو۔ عید حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ری تھا کہ آپ عید کے خطبوں میں اللہ تعا نے کی تسبیح و تحمید بیان فرماتے فرماتے اور اہ تے اور قیامت کے متعلق صحابہ کو توجہ دلاتے تھے۔ عید کے خطبوں میں آپ کا مضمون زیادہ تر اس بات کے متعلق ہوتا تھا کہ بحث ما بعد الموت کے متعلق توجہ ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ عید کا دن بھی بحث ما بعد الموت کے ساتھ ملتا ہے۔ بعید کے دن بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک قسم کا حشر ہوتا ہے۔ حشر کے معنے اکٹھا کرنے کے ہیں ۔ چنا نچہ کے دن بھی لوگ اکٹھے ہوتے ؟ اکٹھے ہوتے ہیں ۔ حتی کہ اس دن جمع ہونے کے ج ہونے کے متعلق یہاں تک تاکید ہے ۔ کہ حائضہ عورتیں بھی جمع ہوں ۔ وہ نماز نہ پڑھیں مگر دوسروں کے ساتھ دعا میں شامل ہوں پس یہ وہ دن ہے کہ اس دن مسلمان خواہ بڑے ہوں یا چھو ٹے سب جمع ہوتے ہیں ایسے اجتماعوں سے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ زینت کرنی چاہیئے اور خوشبو لگانی چاہیے کیے چنا نچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دستور تھا ک یہ نور تھا کہ جمعہ کے دن عید دن ، حج کے ایام میں احرام باندھنے سے پہلے خوشبور گاتے تھے یہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجمع میں تزیین کرنی چاہیئے ۔ اور یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ مجمع میں خوبصورت نظر آئے کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس حکم میں فطرت انسانی کی ترجمانی فرمائی ہے۔ لوگ کیلے میں، جلسوں ، شادیوں میں کیوں خوشبو لگاتے ہیں، اسی لئے کہ وہ اچھے نظر آئیں جب ان کی یہ خواہش ہوتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ اس سے اس طرف توجہ ہو کہ قیامت کے دن جہاں اگلے پچھلے سب جمع ہوں گے خوبصورت نظر آنے کی کسی قدر کوشش کی ضرورت ہے۔ آپ کا منشاء تھا کہ لوگ اس سفر اور اگلے جہان کے لئے تیاری کریں ۔ یہ وہ مبارک ایام تھے جن میں حضرت معہ مصلح موعود رضی اللہ عنہ روزانہ چار ساڑھے چار گھنٹے تک قرآن کریم کا درس کرتے تھے۔ چنانچہ عید کے دن بھی حضور نے باقاعدہ درس دیا ۔ لا الفضل ، در اگست ۹۲ ) دیا