خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 65

۶۵ قائم کر دی ۔ اور جو بعد کو مدنی زندگی کے زمانہ میں رنگ لائی ، بارہ آور ہوئی اور اس قربانی کی قبولیت کا ثبوت اور منظوری کی شہادت اللہ تعالے نے اپنے فعل سے دی) اس وقت تک انسان کو خدا تمام تر تعالیٰ کے حضور نہ قبولیت کا شرف بخشا جاتا ہے اور نہ ہی وہ منظور نظر ہو سکتا ہے ۔ مگر لوگ بالعموم قربانی کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ میں دیکھتا ہوں طبائع میں عام طور پر کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا مادہ بہت کم پایا جاتا ہے۔ نفس کا مارنا اور خدا تعالے کے احکام کے مقابلہ میں اپنی تمامہ خواہشات اور امنگوں کو قربان کر کے گردن ڈال دیا، اپنا آپ کُھلا کر یا ۔ خدا کے لئے ہو جانا اور ابار و استکبار کو ترک کر دینا نہایت ہی مشکل اور موت سے بھی سخت تر ہے۔ بہت ہیں کہ نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ کے پابند ہوں گے مالوں کی قربانی میں دلیری اور سوتے سے کام لیں گے۔ نفسانی خواہشات کو قربان کر کے ایثار کا ثبوت دیں گے۔ بدنی اور رحمانی خدمات کے لئے کمر بستہ ہوں گے اپنے اوقات گرامی کی قربانی کے لئے آمادہ نظر آئیں گئے مگر تعمیل فرمانبرداری اور ترک آباد و استکبار کے امتحان میں کچھے نکلیں گے اور پیچھے رہ جائیں گے کیونکہ وہ اعمال کو ایسے ہیں کہ کرتے کرتے ان کی عادت پختہ ہو جاتی ہے ۔ اور وہ انسان کے ایسے عادت ثانی ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا ترک کرنا انسان کے واسطے مشکل ہو جاتا ہے۔ ام مگر فرمانبرداری اس بات کا نام ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی روح اور اس کے قلب میں ایک ایسا احساس پیدا ہو جائے کہ وہ ان تمام احکام کی فرمانبرداری اور تعمیل کے لئے ایسا کر بستہ ہو جائے کہ جب جب بھی کوئی حکم اللہ تعالے کی طرف سے ، اس کے رسولوں اور انبیاء کی طرف سے یا اُن کے نواب اور خلفاء کی طرف سے صادر ہو۔ سو یہ اس کے ماننے اور فرمانبرداری کے لئے اپنے دل میں کوئی خلش نہ پائے۔ اور تعمیل کے لئے بالکل تیار ہو ۔ ابار و استکبار اور نافرمانی کا خیال دہم تک بھی اس کے قلب میں نہ گذرے۔ پس انسان ہزار نمازیں پڑھے، صدقات دے اور ظاہری قربانیاں ادا کرے مگر جب تک وہ قلب سلیم نہیں جس میں یہ یقینی عوام ہو کہ خدا تعالے کا مقابلہ میں ہو نہیں کرنا ، ابا و استکبار نہیں کرنا اور خدا کے لئے ہر موت اپنے اوپر وارد کرنا منظور ہے تب تک کچھ بھی نہیں۔ ایک شخص تھوڑی نمازیں پڑھنے والا اور کم تسبیح و تحمید کرنے والا اور ظاہری احکام کی پانیدی میں بظاہر دوسروں سے کم ہے۔ مگر اس کے اندر وہ سعید روح موجود ہے اور دل میں سچا جونش اور تڑپ ہے کہ جب بھی کوئی حکم خدا تعالے کی طرف سے اسے ملتا ہے وہ اس کی تعمیل و فرمانبرداری کے لئے حتی الوسع تیار ہوتا ہے اور ا بارد استکبار نہیں کرتا بلکہ خوش ہوتا ہے اور اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے کہ اسے بھی کسی حکم کی تعمیل کا موقع و توفیق ملی اور شکر کرتا ہے۔ کہ وہ بھی اس قابل ہوتا