خطبات محمود (جلد 2) — Page 60
4۔ A ر فرموده ۲۶ اگست ۲ء بمقام ڈلہوزی ) 19 یہ عید قربانی کی عید کہلاتی ہے کیونکہ ایک عظیم الشان قربانی کی یاد میں قائم کی گئی ہے لوگ بحث کرتے ہیں کہ یہ قربانی حضرت اسحق کی تھی یا حضرت اسمعیل کی لیکن اصل بات یہی ہے ، کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام ہی اس قربانی میں پیش کئے گئے تھے یا تو رات کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا تھا کہ اپنا اکلوتا بیٹا قربانی میں پیش کریں ۔ اس نے کہار اللہ تعالے نے تو اپنے بیٹے ہاں اکلوتے بیٹے کو جسے تو پیار کرتا ہے - اضحاق کو لے اور زمین صوریاہ میں جا اور اسے وہاں پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں مجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے لئے چڑھا رہے مگر چونکہ حضرت اسحق حضرت اسمعیل سے چھوٹے تھے۔ اس وجہ سے اکلوتے بیٹے کے لفظ کا اطلاق ان پر نہیں ہو سکتا تھا ۔ لیکن بڑے بیٹے پر اکلوتے کا لفظ عائد ہو سکتا ہے کیونکہ جب تک حضرت اسحق پیدا نہیں ہوئے تھے حضرت اسمعیل ہی اکلوتے تھے ۔ یہود کو یا تو دھوکا لگا ہے یا انہوں نے عمدا حق پوشی کر کے لوگوں کو دھوکا دیا ہے اور اس خواب میں اضحق کا لفظ بڑھا دیا ہے تاکہ قربانی کے فوائد اور وعدوں کا وارث اپنی قوم کو ثابت کر کے حق اپنی طرف منسوب کریں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رویا میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرتے ہیں۔ یہ ایک خواب بھی جس کی تعبیر تھی اور یہ ظاہر اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا تھا ۔ اور یہ رویا کچھ معنی رکھتی تھی مگر چونکہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قانون نازل نہ ہوا تھا کہ رویا پر کیونکر عمل کیا جائے اور خواب کی حقیقت اور معانی سمجھ کر کیونکر اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رویا کو اپنے ظاہر پر محمول کیا اور واقعہ میں اپنے جگر گوشہ کو خدا کے حکم کے ماتحت اور اس کی رضاء کے حصول کے لئے قربان کرنے کو تیار ہو گئے اور حضرت ہمیں علیہ السلام کو جن کی رضا بھی اس میں شامل تھی ۔ زمین پر کٹا دیا۔ مگر انت تعالئے نے عین اس وقت کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یا اپنی طرف سے حضرت اسمعیل کو قربان ہی کو چکے تھے۔ اس راڈیا کی حقیقت بتائی اور اس خواب کو ظاہری طور پر پورا کرنے کے لئے حکم دیا کہ اللہ کی راہ میں ایک بکرا قربان کیا جائے لیک