خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 60

دفرموده ۲۶ اگست شاد بمقام ڈلہوزی ) یہ عید قربانی کی عید کہلاتی ہے کیونکہ ایک عظیم الشان قربانی کی یاد میں قائم کی گئی ہے لوگ بحث کرتے ہیں کہ یہ قربانی حضرت اسحق کی تھی یا حضرت آمنجیل کی لیکن اصل بات یہی ہے ، کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام ہی اس قربانی میں پیش کئے گئے تھے۔یہ تو رات کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا تھا کہ اپنا اکلوتا بیٹا قربانی میں پیش کریں۔اس نے کہا اللہ تعالے نے تو اپنے بیٹے ہاں اکلوتے بیٹے کو جسے تو پیار کرتا ہے - اضحاق کو لے اور زمین صوریاہ میں جا اور اسے وہاں پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں سمجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے لئے چڑھایا ہے مگر چونکہ حضرت اسحی حضرت اسمعیل سے چھوٹے تھے۔اس وجہ سے اکلوتے بیٹے کے لفظ کا اطلاق ان پر نہیں ہو سکتا تھا۔لیکن بڑے بیٹے پر اکلوتے کا لفظ عائد ہو سکتا ہے کیونکہ جب تک حضرت اسحق پیدا نہیں ہوئے تھے حضرت اسمعیل ہی اکلوتے تھے۔یہود کو یا تو دھوکا لگا ہے یا انہوں نے عمدا حق پوشی کر کے لوگوں کو دھوکا دیا ہے اور اس خواب میں اضحق کا لفظ بڑھا دیا ہے تاکہ قربانی کے فوائد اور وندوں کا وارث اپنی قوم کو ثابت کر کے حق اپنی طرف منسوب کریں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رڈیا میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کرتے ہیں۔یہ ایک خواب تھی جس کی تعبیر تھی اور یہ ظاہر اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا تھا۔اور یہ رو یا کچھ معنی رکھتی تھی مگر چونکہ اس وقت تک اللہ تعالے کی طرف سے کوئی قانون نازل نہ ہوا تھا کہ رویا پر کیونکر عمل کیا جائے اور خواب کی حقیقت اور معانی سمجھے کہ کیونکہ اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رڈیا کو اپنے ظاہر پر محمول کیا اور واقعہ میں اپنے جگر گوشہ کو خدا کے حکم کے ماتحت اور اس کی رضا کے حصول کے لئے قربان کرنے کو تیار ہو گئے اور حضرت ہمیں علیہ السلام کو جن کی رضا بھی اس میں شامل تھی۔زمین پر لٹا دیا۔مگر اللہ تعالے نے عین اس وقت کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام گویا اپنی طرف سے حضرت آنفیل کو قربان ہی کر چکے تھے۔اس ساریا کی حقیقت بتائی اور اس خواب کو ظاہری طور پر پورا کرنے کے لئے حکم دیا کہ اللہ کی راہ میں ایک بحرا قربان کیا جائے نیک