خطبات محمود (جلد 2) — Page 55
♡♡ تو یہ عید ہماری جماعت کے لئے ایک خاص نشان ہے کیونکہ اس پر خدا تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھایا کہ ایک ہمارے نہی ملک کا باشندہ جو نہ کبھی عرب میں گیا ن کبھی عالمہ کہلایا نہ اس نے علم عربی کی خاص طور تعلیم پائی اور لوگ مولوی چھوڑا سے مجلسی آدمی بھی نہیں سمجھتے تھے کیونکہ اس نے سب کو چھوڑ چھاڑ کر گوشہ تنہائی میں زندگی بسر کی اور لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھا۔ اس ۔ نہ رکھا ۔ اس پر خدا نے اپنا کلامہ جاری کیا۔ اور اس نے بغیر کسی قسم کی تیاری اور عربی زبان میں تقریر کرنے کی مشق کے ایک لمبے عرصہ تک تقریر کی جو ایسی شستہ اور فصیح تھی کہ جس کو اس ملک والے بھی دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتے ہیں جن کی مادری زبان میں وہ کی گئی اور ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے کہ اگر قرآن کریم کے بعد آسانی اور سہولت سے کوئی عبارت حفظ ہو سکتی ہے تو یہی تقریر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی ۔ یہ حفظ کرنے کے اس قدر اقرب ہے کہ وہ دن جس میں کی گئی تھی ابھی ڈوبا نہیں تھا کہ چھوٹے چھوٹے بچے اس کے فقرے گلیوں میں دوہراتے پھرتے تھے۔ وجہ یہ کہ ایسی مقفی اور مسجع ہے کہ بہت آسانی سے یاد ہو سکتی ہے۔ اس وقت میری عمر بارہ برس کے قریب تھی اور کئی بچے مجھ سے بھی چھوٹی عمر کے تھے مجھے یاد ہے ہمیں اس تقریر کے کئی فقرے یاد ہو گئے تھے اور تقریر کرنے کے وقت کے نقشہ کا ایسا اثر تھا کہ بغیر اس بات کے علم کے کہ سواری کا پڑھنے کے ساتھ خاص تعلق ہوتا ہے ہم دیواروں کو گھوڑا بنا لیتے اور فقرات کو پڑھتے اور ہم سمجھتے کہ سواری سے ان فقرات کو خاص مناسبت ہے ۔ تو بلحاظ اس کے کہ اس عید کو ہماری جماعت کے ساتھ یہ خاص خصوصیت ہے کہ اس پر خدا تعالے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ایک بہت بڑا معجزہ دکھایا ہمارے لئے یہ بڑی عید ہے۔ پھر اس لحاظ سے بھی بڑی ہے کہ اس کے ذریعہ قربانیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور تمام بڑائیوں کے حاصل کرنے کے لئے نفس کی قربانی ضروری ہوتی ہے اس عید پر نفس کی قربانی کی طرف اشارہ ہے اور مال کی قربانی کرائی جاتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے، بڑائی چھوٹائی نسبتی امر ہے اور جس سے کوئی فائدہ اٹھائے ، وہی اس کے لئے بڑی ہے تاہم چونکہ اس عید میں قربانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ، اس لئے جو اس سے فائدہ اٹھائے وہ اسے بڑا کہہ سکتا ہے۔ کیونکہ اس میں ایک طرف تو قربانی کی حقیقت اور اس کا نفع اور فائدہ بتایا گیا ہے اور دوسری طرف اس سے اس قربانی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کی۔ دنیا میں لوگ معمولی معمولی باتوں کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر چاہتے ہیں کہ ان کا نام مشہور ہو جائے مثل مشہور ہے کہتے ہیں کوئی عورت بھی اس نے انگوٹھی بنوائی ۔ عورتوں کو ! دکھانے کے لئے وہ اس انگلی سے جس میں انگوٹھی پہنی ہوئی تھی باتوں باتوں میں اشارے کرتی۔