خطبات محمود (جلد 2) — Page 49
دو ۔ یہاں وم اس سے میرا شرح صدر ہو گیا کہ میں جس خیال پر ہوں وہ درست ہے اگر قل کا لفظ نہ ہوتا تو اس کے منے یہ ہوتے کہ خلافت کے منکروں کا جو خیال ہے وہ درست ہے لیکن یہاں لفظ قبل تھا۔ جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کنم کہ اسی طرح مجھے کہا گیا کہ جو تمہارے خلاف خیال رکھتے ہیں۔ ان کو کہدو کہ یورپ کی ب ان کو کہدو کہ یورپ کی تقلید میں کامیابی اور فلاح نہیں یہ دینی سلسلہ ہے اس لئے جس طرح خدا کے نبیوں کے خلیفہ ہوتے رہے ہیں۔ اسی طرح بھی خلافت ہی ہو گی لیکن اگر وہ باز نہیں آئیں گے تو خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں کامیابی اسی میں ہے کہ وہ خدا کے حضور گر جائیں اور زاری کریں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو خدا کا عذاب موجو د ہے۔ جب میرا شرح صدر ہو گیا تو پھر میں نے حضرت مولوی صاحب کو اپنی رائے لکھک بھیجدی ۔ تو فر ما یا قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعا و کتم آج بھی قربانیوں کا دن ہے۔ خدا کی طاقتوں میں کمی نہیں آگئی ۔ خدا اب بھی وہی خدا ہے جو پہلے تھا بلکہ آج پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ ظاہر ہو رہا ہے۔ کیونکہ آجکل ہلاکت کے بہت زیادہ سامان پیدا ہو گئے ہیں ۔ ہزاروں قسم کے نئے امراض پیدا ہو چکے ہیں۔ اور خود انسان نے اپنی ہلاکت کے لئے عجیب عجیب آلات ایجاد کر لئے ہیں۔ پہلے تلوار کے وار سے زرہ پہنکہ انسان بچ سکتا تھا۔ تیر سے محفوظ رہ سکتا تھا لیکن اب کوئی زرہ نہیں جو گولی کی زد سے بچا سکے ۔ طاعون سے وہ ٹیکہ نہیں بچا سکتا جو نبی میں بنیتا ہے بلکہ اس کا علاج وہی ٹیکہ ہے جو قادیان میں تیار ہوتا ہے ۔ پس اس خدا کے لئے ہوتی و صدات کے لئے قربانیاں کرو۔ اپنے آپ کو عزیز و اقارب کو ، مال و دولت کو عزت و حرمت کو یہ فرض ہر پیاری سے پیاری چیز کو اس کی راہ میں خرچ کرو ۔ دیکھو کیسے عظیم الشان نتائج ہیں اس قربانی کے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو قربان کرنا چاہا ۔ آج دنیا میں جہاں بھی کوئی خدا کا سچا نام لیوا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس سنت پر عمل کرتا ہے اور یہاں تک خدا نے آپ کو بزرگی وی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جو دعا کی جاتی ہے اس میں بھی حضرت ابرا ہیں علیہ السلام کا نام بطور تمثیل کے داخل کیا گیا ہے ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ یہ بھی یا درکھنا چاہئیے کہ عمل کے ساتھ جب تک نیست نہ ہو عمل کوئی چیز نہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بیٹے کو قربان کرنا چاہا مگر آپ کی نیت بہت اعلیٰ درجہ کی تھی۔ قربانیاں تو بہت بہت لوگوں نے کیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس ایک قربانی کو کوئی نہیں پہنچتی ۔ کیونکہ جو نیت ان کی تھی ویسی کسی کی نیت نہیں۔ نہیں ۔ مثلاً جنگ احد میں مشہور ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ