خطبات محمود (جلد 2) — Page 45
ہے کہ وہ خدا کا محبوب ہو جاتا ہے ۔ مشهر جو لوگ خود خدا کے لئے قربان نہیں ہوتے ۔ فنا تو ان کو ہونا ہی پڑتا ہے مگر ان کی یہ تنا قابل تندر نہیں ہوتی ۔ اکثر تو ایسے ہوتے ہیں کہ دنیا میں ہی ان کی زندگی ان کے لئے وبال ہو جاتی ہے ۔ آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ کہ بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کے علم کی بڑی شہرت ہوتی ہے مگر ان پر ایک وقت ایسا آجاتا ہے جبکہ وہ ارذل العمر کو پہنچ جاتے ہیں ایسی حالت میں لوگ جو ان کے شاگرد اور عزیزہ ہوتے ہیں اور جو ہمیشہ ان کے مشوروں کے محتاج ہوتے ہیں ان کی باتوں پر ہنسنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو سٹھیا گیا ہے یا کہتے ہیں کہ میاں اس کے پاس کیا جائیں وہ ہ تو تو بڑھاپے کی وجہ سے چڑ چڑا ہو ہو گیا گیا ہے ہے۔ ۔ اس ایک دن تو وہ معلم ہوتا ہے لیکن جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو متعلم بھی اس کو کوئی نہیں بناتا۔ یا تو وہ استاد ہوتا ہے یادہ شاگرد ہونے کی بھی اہمیت نہیں رکھتا ۔ غرض وہ قعر مذلت میں گر کر اس حالت کو پہنچ جاتا ہے ۔ مگر جو خدا کی راہ میں اپنے آپ کو قربان کر دیتے ہیں اور اس کے پیارے ہوتے ہیں ان کی یہ حالت ہرگز نہیں ہوتی۔ دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ ہوئے ہیں جن کا بڑا رعب اور بڑی سطوت مخفی لیکن آخری عمر میں فالج کی وجہ سے ان کے ہوش و حواس زائل ہو گئے اور ان کی زندگی ان کے لئے موت سے بدتر ہو گئی۔ پھر کئی بادشاہ ایسے گزرے ہیں جن کے آخری لمحے نہایت حسرت و یاس کے ساتھ ختم ہوئے اور یہ وہ ہاتھ ملتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے مگر کوئی ایک نبی بھی تو ایسا نہیں گذرا جس کا ایسا انجام ہوا ہو۔ بڑے بڑے جرنیل گزرے ہیں جو ایڑیاں رگڑتے رگڑتے مر گئے ہیں ۔ اور بڑے بڑے بہادر ہوئے ہیں جنہوں ۔ جنہوں نے نہایت عبرت ا عبرت انگیز طریق سے دم توڑا ہے ۔ وجہ ہے ؟ مگر نبیوں اور ان کے خلفاء میں سے کسی ؟ سے کسی کی یہ حالت نہیں ہوئی ۔ کیوں اس کی کیا وجہ ۔ یہ کہ چونکہ وہ خدا کی راہ : وہ خدا کی راہ میں مرنے سے پہلے مر چکے ہوتے ہیں ۔ اس لئے خدا ان خدا انہیں ہمیشہ کی ہلاکت سے بچا لیتا ہے ۔ انسان کو قربان تو ہونا ہی پڑتا ہے کوئی اپنے نفس کے لئے قربان ہوتا ہے کوئی عزت کے لئے ، کوئی اپنے کسی عزیز کے لئے ۔ اور کسی کو نہ مانہ کے ہا ہاتھوں قربان ہونا پڑتا ہے مگر مبارک ہے وہ جو خدا کے لئے قربان ہو اور قربانیوں کے لئے ہلاکت ہے مگر خدا کے لئے قربان ہونے کے نتیجہ میں ہمیشہ کی زندگی نصیب ہوتی ہے اور ایسے شخص کو ہمیشہ ہمیش کے لئے ہلاکت سے بچا لیا جاتا ہے بلکہ جو اس کو فنا کرنے کے لئے اٹھے اس کو فنا کرد مٹا دیا جاتا ہے۔ حضرت مسیح کر دیا دیا۔ جاتا ہے اور سیح موعود علیہ السلام کا اس وقت کا ایک الہام ہے جس وقت آپ کی بعیت میں ابھی ایک شخص بھی نہ تھا۔ کہ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ۔ آپ نے دیکھا لده