خطبات محمود (جلد 2) — Page 44
۴۴ وہ قیمتی ہو سکتی ہے یا وہ جو یونہی ضائع ہو گئی ، یقیناً خدا کی راہ میں قربان ہونے والی قیمتی ہے۔ پس جب موت ہر ایک انسان کو لگی ہوتی ہے اور اس سے کوئی باہر نہیں تو پھر کیوں انسان اپنی جان ایسی جگہ صرف نہ کرے جس سے خدا کی رضا حاصل ہو۔ کیونکہ مبارک ہے وہ موت بھر خدا کے لئے قبول کی جائے۔ بابرکت ہے وہ مال جو اس کی راہ میں صرف ہو اور جس کا نتیجہ رضاء مولی ہو اور افسوس ہے اس زندگی پر جو خرچ تو ہو مگر حق و صداقت کے لئے خرچ نہ ہو۔ افسوس ہے اس مال پر جو صرف تو ہو لیکن رضاء مونٹے کے لئے صرف نہ ہو ۔ ضائع ہو گئی وہ زندگی جو خدا کے لئے نہ دی گئی اور تباہ ہو گیا وہ بال جو اس کی راہ میں صرف نہ ہوا ۔ اور برباد ہو گیا وہ وقت جو خدا کی محبت سے خالی گذرا ۔ خدا نے تو انسان کے لئے بڑے بڑے اعلیٰ درجے کے مدارج رکھے ہیں مگر افسوس کہ اکثر انسان ان کی طرف سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ انسان اگر اپنی ابتداء پر غور کرے تو حیران ہو جائے کہ کن کن چیزوں کا خلاصہ ہے اور کیسی ادنی چیزیں اس کا جزو ہیں۔ کچھ چنے ہیں کچھ مائش ہے اور کچھ کیوں ہے کچھ ساگ پات وغیرہ چیزیں ہیں جو اس کے باپ نے کھائیں اور ان سے ایک خلاصہ تیار ہوا جو اس کی ماں کے رحم میں گیا اور اس کوہ پیدا ہوا اور خدا کی توفیق سے چلنے پھرنے لگا ۔ پھر خدا نے اپنے فضل کی را ہیں اس پر کھول دیں اور اپنی ذات وصفات کا علم حاصل کرانے کے لئے اس کی جنس میں سے کسی انسان پر اس کی خاطر اپنا کلام نازل کیا ۔ پھر اس کو توفیق دی کہ اس کلام کو ٹنے اور باکلام نازل اسے تسلیم کرے خدا کے ان مرسلوں میں ایک سب سے عظیم الشان محمدصلی اللہ علیہ و آلہ سا میں انسان اپنی اس ابتداء کو دیکھے اور پھر انتہاء پر نظر کرے۔ ابتداء میں تو یہ کہیں گوشت میں نظر آتا ہے، کہیں سبزی میں ، کہیں غلہ وغیرہ ہیں ۔ مگر انتہاء یہ ہوتی ہے کہ ازلی ابدی خدا اس پر ظاہر ہوتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے اور اس کی ہر جگہ اور ہر حالت میں اور ہر شر اور مصیبت میں حفاظت کرتا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو اس کی خاطر لاکھوں انسانوں کو قربان کر ڈالتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کونسا درجہ ہے جو انسان کو حاصل ہو سکتا ہے لیکن یہ کس طرح حاصل ہو سکتا ہے اسی طرح کہ خدا کے لئے اپنے آپ کو قربان کر دیا جائے۔ اور جو خدا کے لئے اپنے آپ کو قربان کرتا ہے وہ ضرور کامیاب ہو جاتا ہے۔ پس اس بات کو خوب یاد رکھو کہ جو خدا کے لئے قربان ہوتا ہے وہ میں خام بھی ہوتا ہے تو کندن ہو کر نکلتا ہے ۔ بکرا ذبح ہوتا ہے تو انسان اس کو کھاتے ہیں اور اس طرح اس کی قربانی ضائع نہیں جاتی بلکہ انسانوں کے جسم کا جزو بن جاتا ہے اسی طرح ہزاروں چیزوں کو انسان کے لئے قربان جو نا پڑتا ہے ۔ اور انسان کو خدا کے لئے قربان ہونا پڑتا ہے۔ پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا