خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 42

ہوتی ہیں اور آدمی کی قربانیاں ان قربانیوں کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتیں ۔ وہ چیز جس کے لیئے اس سے بھی زیادہ قربانیوں ، قربانیوں کی ضرورت ۔ رت ہے ، وہ حق اور صداقت ہے۔ اللہ کا قرب اور اس کی محبت ہے۔ اللہ کی رضا کا حصول ہے اور انسانوں کو جو اصلی اور حقیقی بڑائی حاصل ہوتی ہے وہ بھی اس کے حصول کے بعد ہوتی ہے۔ مثلاً حضرت مو سے علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑے آدمی تھے لیکن کیوں؟ اسی لئے کہ خدا کی رضا ان کو حاصل تھی یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام بنی نوع انسان کے سہ دار اور سب سے بڑی شان اور عظمت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ سب سے زیادہ خدا کا قرب اور اس کی رضا آپ کو حاصل ہے اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیزے ر جس چیز نے تمام آدم زادوں سے بڑا اور معزز بنا یا وہ خدا کا قرب اور اس کی رضا رہی ہے۔ اور اس کی وجہ سے آپ کا درجہ سب سے بلند اور اعلیٰ ہے تو برائی اسی ہیں ہے کہ ہم خدا کی رضا حاصل کریں ۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بھی اسی ہیں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی اپنی ذات کے باعث نہیں۔ موسے علیہ السلام کی بڑائی اپنی ذات کے باعث نہیں ۔ نوح علیہ السلام و ابراہیم علیہ السلام کی بڑائی اپنی ذات کے ات کے سبب نہیں ۔ ان کی بڑائی اور بزرگی کا سبب خدا ، خدا کی محبت، اس کا قرب اور اس کی رضامندی ہی ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسولوں کی سرداری کس بات سے حاصل تھی۔ اسی سے کہ آپ سب سے زیادہ خدا کی محبت میں گداز تھے اور آپ پر سب سے زیادہ خدا کے صفات جلوہ گر ہوئے تھے تو حق و صداقت، رضا، اور قرب الہی ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے لئے جتنی بھی بڑی سے بڑی قربانی کرنی پڑے کرنی چاہیئے ۔ دیکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عزیز اور قیمتی جان کو میدان میں دشمنان حق کے مقابلہ کے لئے اسی لئے جانا پڑا کہ آپ حق کی حفاظت کریں ۔ چونکہ دشمن حق کو مٹانا چاہتے تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حبیبی قیمتی جان کو بھی اس کی حفاظت کے لئے اپنی قربانی دینے سے انکار نہیں تھا۔ اس سے سمجھ لو کہ حق کتنی بڑی اور عظیم الشان چیز ہے اور اس کے لئے تمہیں کس قدر قربانی کرنی چاہیے۔ اتمام کائنات میں یہ قانون جباری ہے کہ چھوٹی چیز بڑی چیز کے لئے قربان ہو رہی ہے۔ بڑے درخت کے نیچے چھوٹا درخت ہو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ چھوٹا بڑے کے لئے قربان ہو جائے گا اور سوکھ جائے گا۔ یہ خدا کا قانون ہے اس سے کسی چیز کو مفر نہیں اور قانون قدرت اس بات کا شاہد ہے کہ جو خود بخود قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اسے بھی دوسروں کے لئے قربان کر دیا جاتا ہے ۔ دیکھو انسان کے فنا ہونے کے ہزاروں ذریعے ہیں