خطبات محمود (جلد 2) — Page 42
سلام ہوتی ہیں اور آدمی کی قربانیاں ان قربانیوں کے سامنے کچھ تنقیقت نہیں رکھتیں۔کے لئے اس سے بھی زیادہ قربانیوں کی ضرورت ہے ، وہ حق اور صداقت ہے۔اللہ کا قرب اور اس کی محبت ہے۔اللہ کی رضا کا حصول ہے اور انسانوں کو جو اعلی اور حقیقی بڑائی حاصل ہوتی ہے وہ بھی اس کے حصول کے بعد ہوتی ہے۔مثلاً حضرت موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام بڑے آدمی تھے لیکن کیوں؟ اسی لئے کہ خدا کی رضا ان کو حاصل تھی یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام بنی نوع انسان کے سہ دار اور سب سے بڑی شان اور عظمت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں۔کیوں ؟ اس لئے کہ سب سے زیادہ خدا کا قرب اور اس کی رضا آپ کو حاصل ہے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیز نے تمام آدم زادوں سے بڑا اور معززہ بنا یا وہ خدا کا قرب اور اس کی رضا ہی ہے۔اور اس کی وجہ سے آپ کا درجہ سب سے بلند اور اعلیٰ ہے تو برائی اسی میں ہے کہ ہم خدا کی رضا حاصل کریں۔خود رسول کریم مسلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی بھی اسی ہیں ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بڑائی اپنی ذات کے باعث نہیں۔موسسے علیہ السلام کی بڑائی اپنی ذات کے باعث نہیں۔نوح علیہ استعلام و ابراہیم علیہ السلام کی بڑائی اپنی ذات کے سبب نہیں۔ان کی بڑائی اور بزرگی کا سبب خدا کی محبت، اس کا قرب اور اس کی رضامندی ہی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسولوں کی سرداری کس بات سے حاصل تھی۔اسی سے کہ آپ سب سے زیادہ خدا کی محبت میں گداز تھے اور آپ پر سب سے زیادہ خدا کے صفات جلوہ گر ہوئے تھے تو حق و صداقت، رضا، اور قرب الہی ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے لئے جتنی بھی بڑی سے بڑی قربانی کرنی پڑے کرنی چاہیئے۔دیکھو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عزیز اور قیمتی جان کو میدان میں دشمنان حق کے مقابلہ کے لئے اسی لئے جانا پڑا کہ آپ حق کی حفاظت کریں۔چونکہ دشمن حق کو مٹانا چاہتے تھے اس لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی قیمتی جان تو بھی اس کی حفاظت کے لئے اپنی قربانی دینے سے انکار نہیں تھا۔اس سے سمجھ لو کہ حق کتنی بڑی اور عظیم الشان چیز ہے اور اس کے لئے تمہیں کس قدر قربانی کرنی چاہیئے۔اتمام کائنات میں یہ قانون جاری ہے کہ چھوٹی چیز بڑی چیز کے لئے قربان ہو سجی ہے۔بڑے درخت کے نیچے چھوٹا درخت ہو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ چھوٹا بڑے کے لئے قربان ہو جائے گا اور سوکھ جائے گا۔یہ خدا کا قانون ہے اس سے کسی چیز کو مفر نہیں اور قانون قدرت اس بات کا شاہد ہے کہ جو خود بخود قربانی کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اسے بھی دوسروں کے لئے قربان کر دیا جاتا ہے۔دیکھو انسان کے فنا ہونے کے ہزاروں ذریعے ہیں