خطبات محمود (جلد 2) — Page 400
م لیکن کچھ دن اس مبلغ کی صحبت میں رہنے کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ احمدی ہو گیا۔ ہمارے مبلغ انچارج کہتے ہیں کہ جب میں وہاں چندہ لینے گیا تو اتفاقاً وہ شخص اس شہر میں آیا ہوا تھا وہ مجھے ملا اور کہنے لگا ۔ آپ یہاں کیسے تشریف لائے ہیں ۔ میں نے اسے اپنی آمد کا مقصد بنایا اور کہا کہ عیسائیوں نے اپنے پریس میں ہمارا اخبار شائع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اگر تمہارے خدا میں کوئی طاقت ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کوئی معجزہ دکھاتے اور تمہارا اپنا پریس جاری کر دے ۔ پس میں ! میں اپنا علیحدہ پریس لگانے کے لئے چندہ اکٹھا کرنے آیا ہوں۔ اس پر وہ احمدی دوست کہنے لگا مولوی صاحب ! یہ تو بڑی بے غیرتی ہے کہ اب ہمارا اخبار ان کے پریس میں چھپے ۔ آپ یہاں کچھ دیر انتظار کریں میں ابھی آتا ہوں ۔ اس کا گاؤں قریب ہی تھا۔ وہ وہاں گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر اس نے پانچ سو پونڈ کی بیستم مولوی صاحب کے ہاتھ میں دے دی اور کہا کہ پولیس کے سلسلہ میں یہ میرا چندہ ہے ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مد میں ۲٫۵۰۰ پونڈ کے قریب چندہ جمع ہو چکا ہے ۔ اور اب سنا ہے کہ پریس لگ رہا ہے ہے یا کم از کم وہ انگلستان سے چل چکا ہے۔ غرض ہمارے یہ مبلغ ایسے ممالک میں کام کر رہے ہیں جہاں جنگل ہیں جنگل ہیں۔ شروع شروع میں جب ہمارے مبلغ وہاں گئے تو بعض دفعہ انہیں وہاں درختوں کی جڑیں کھانی پڑتی تھیں اور وہ نہایت تنگی سے گزارہ کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی صحت خراب ہو جاتی تھی۔ گو اب ہمارے آدمیوں کے میل ملاپ کی وجہ سے ان لوگوں میں کچھ نہ کچھ تہذیب آگئی ہے۔ ان ممالک کو سفید آدمیوں کی قبر کیا جاتا ہے کہ کیونکہ وہاں کھانے پینے کی چیزیں نہیں ملتیں جب سفید آدمی وہاں جاتے ہیں تو وہ مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور پچیش وغیرہ بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غرض اس زمانہ میں حضرت اسمعیل علیہ السلام سے زیادہ سے زیادہ مشابہت ہمارے مبلغوں کو حاصل ہے۔ جو اس وقت مشرقی اور مغربی افریقہ میں کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ ملک اس وقت بھی جنگل ہیں اور دنیا میں کوئی اور ملک جنگل نہیں ۔ امریکہ بھی آباد ہے یورپ بھی آباد ہے اور مڈل ایسٹ بھی اب آباد ہو چکا ہے لیکن افریقہ کے اکثر علاقے اب بھی غیر آباد ہیں ۔ ان میں تبلیغ کرنے والوں کو بڑے بڑے لمبے سفر کرنے پڑتے ہیں اور بڑی جانکاہی کے بعد لوگوں تک اسلام پہنچانا پڑتا ہے ۔ خدا تعالے نے یہ ملک ہمارے لئے رکھے تھے تا کہ ہمارے نوجوان ان میں کام کر کے حضرت اسمعیل علیہ السلام سے مشابہت حاصل کریں ۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے نوجوان افریقہ کے جنگلات میں بھی کام کر رہے ہیں۔ مگر میرا خیال یہ ہے کہ اس ملک میں بھی اس طریق کو جاری کیا جا سکتا ہے چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خو ں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت