خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 389

۳۸۹ فی الواقعہ آج پر سلمان ان معنوں میں عید منانے لگ جائے اور وہ دنیوں اور بکروں کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی اور اپنے بیٹوں کی قربانی بھی کرنے لگ جائے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں تباہ نہیں کر سکتی۔ دیکھو سکھوں نے اپنے زمانہ حکومت میں پشاور پر قبضہ کر لیا تو حضرت سید احمد صاحب بریلوی نے جو تیرھویں صدی کے مجدد تھے سید اسمعیل صاحب شہید کو اس پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے مقرر کیا۔ چنانچہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پشاور کی طرف بڑھے ۔ سکھوں کے پاس تو میں تھیں اور مسلمانوں کے پاس نہیں تھیں جیسلیمانی سامنے کھڑے ہوئے تو لوگ کہنے لگے یہ کیا مقابلہ کریں گے بلکہ بعض نے تو یہانتک کہا کہ یہ لوگ بیوقوف ہیں جو تو پوں کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں اس وقت کی جنگ آجکل کی جنگ کی طرح زیادہ خطرناک نہیں ہوتی تھی ۔ اس وقت توپ کا کا گولہ اگر چہ کئی کئی من کا ہوتا تھا مگر وہ ایک ہی جگہ بڑھتا تھا اور آجکل کے گولوں کی طرح پھیل کر زیادہ نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ سید اسمعیل صاحب شہید نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر تم متفرق طور پر کھڑے ہوئے تو تو توپ کا گولہ زیادہ سے زیادہ تم میں سے ایک کو مارے گا ۔ اس لئے تم ایک دوسرے سے کندھا لگا کر کھڑے نہ ہو بلکہ انیس میں دس دس گز کا فاصلہ رکھو اور دشمن کی طرف اس طرح پڑھو کہ جوں جوں تم دشمن کے قریب ہوتے جاؤ تمہا را درمیانی فام درمیانی فاصلہ کم ہوتا جائے ۔ اور جب تم دشمن کے بالکل قریب پہنچ جاؤ تو یکدم حملہ کر کے اس کی توپوں پر قبضہ کر لو ۔ ان لوگوں میں اطاعت کا مادہ بہت زیادہ تھا۔ انہوں نے سید اسمعیل صاحب شہید کی ہدایات کے ما سخت آپس میں دس دس گز کا فاصلہ رکھ کر قلعہ کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ وجہ سے دشمن کے گولے انہیں زیادہ نقصان نہیں پہنچاتے تھے زیادہ سے زیادہ وہ ایک آدمی کو اپنی زد میں لیتے تھے اور باقی محفوظ رہتے تھے۔ غرض مسلمان اسی طرح آگے بڑھتے گئے اور جوں جوں دشمن کے قریب ہوتے گئے ان کا فاصلہ کم ہوتا گیا۔ جب وہ توپ خانہ کے بالکل قریب پہنچے تو کیدم حملہ کر کے انہوں نے تو بچیوں کو توپوں کے دہانے سکھوں کی طرف پھیر دینے پر مجبور کر دیا۔ اس طرح سکھوں کی تو میں سکھوں پر ہی چلیں اور پشاور پر سلمانوں نے قبضہ کر لیا ہے اب دیکھو جو کچھ ہوا ۔ قومی قربانی کا ہی نتیجہ تھا ، ورنہ مسلمان خالی ہاتھ تھے ۔ اور دشمن مسلح تھا اور اس کے مقابلہ میں ان کی ظاہری طور پر کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ صرف اتنی بات تھی کہ وہ لوگ مرنا جانتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے فتح حاصل کر لی۔ اسی طرح پٹھانوں میں بھی بڑی جرات اور دلیری پائی جاتی ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ مرنا جانتے ہیں ۔ پٹھان لڑتے تھے تو بعض دفعہ انگریزی فوج پر حملہ کر کے ان کی رائفلیں تک چھین کرلے جاتے تھے۔ جب نادر شاہ نے سرحد پر حملہ کیا تو نادر شاہ کے جتھے آتے، در مرتے جاتے یہانتک کہ وہ علاقے فتح کر لیتے۔ میں نے ان دنوں ایک خواب دیکھی کہ ایک انگریز میرے پاس آیا ہے۔ اور راس نے کہا، سے