خطبات محمود (جلد 2) — Page 388
۴۵ ر فرموده و در جولائی ۱۹۵۷ مقام ربوده ) آج عید الاضحیہ ہے یعنی قربانیوں کی عید کا دن۔یوں تو اس عید پر مسلمانوں میں سے صاحب نوفیق لوگ بھی بہت کم قربانی کرتے ہیں۔سوائے حج کے کہ اس موقعہ پر میں نے دیکھا ہے بڑی کثرت کے ساتھ قربانیاں کی جاتی ہیں۔لیکن یہ عید ، عید الاضحیہ اسی طرح ہو گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کروڑوں کی تعداد میں است ملی۔چنانچہ کہتے ہیں اس وقت مسلمانوں کی تعداد 4 کروڑ ہے۔اگر ان ساٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے فی کرو ایک مسلمان بھی بنتِ رسول پر صیحیح طور پر عمل کرنے والا ہو تو 40 آدمی قربانی کرنے والے نکل آتے ہیں۔اور اگر لاکھ میں سے ایک آدمی سنتِ رسول پر عمل کرنے والا ہو تو۔۔۔و مسلمان قربانی کرنے والا نکل آتا ہے۔اور اس طرح یہ عیب حقیقی معنوں میں عید الاضحیہ بن جاتی ہے گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عید کا نام عید الاضحیہ رکھ کر بتایا کہ آپ کی امت کو خدا تعالے اس قدر بڑھائے گا کہ اگر ان میں سے اس موقعہ پر بہت کم قربانی کرنے والے لوگ ہوں تب بھی ان کی قربانیاں ایک بہت بڑا مجموعہ ہو جائیں گی پیس ریجید بڑی شاندار عید ہے جس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی۔اس موقعہ پر لوگ بکروں اور دنوں کی قربانیاں کرتے ہیں لیکن قرآن کریم نہ ماتا ہے۔لن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ تَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ له اللہ تعالے کو ان قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ قربانی کرنے والوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔پس اصل قربانی وہ ہے جو انسان اپنی اور اپنے اہل وعیال کی پیش کرے اور یہی وہ سبق ہے جو عید الاضحیہ نہیں سکھاتی ہے۔چنانچہ و سکچھ لو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسمعیل اور حضرت با جزرة کو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ آئے یہ تو گو وہ خود اس جنگل سے باہر چلے گئے لیکن ان کی قربانی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کی جدائی کا دکھ اٹھایا اور بیوری کی یہ قربانی تھی کہ اس نے اپنے خاوند کی جدائی کا دُکھ اُٹھایا اور اپنے بیٹے کا دُکھ دیکھا اور بیٹے کی قربانی یہ تھی کہ وہ اپنی مرضی سے ایک ایسے جنگل میں بس گیا جہاں دور دور تک انسان نظر نہیں آتا تھا۔اور اس نے نه صرف خود پیاس اور بھوک کی تکلیف اُٹھائی بلکہ ماں اور باپ کا دکھ بھی دیکھا پس وہ قربانی کسی ایک فرد کی نہیں تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت آافیل علیہ السلام کو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ کر کی بلکہ درحقیقت وہ سارے خاندان کی قربانی تھی۔میں سمجھتا ہوں اثر