خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 388

۳۸۸ ۴۵ ر فرموده و ار جولائی ۱۵۵ بمقام ربوہ ) آج عید الاضحیہ ہے یعنی قربانیوں کی عید کا دن۔ یوں تو اس عید پر مسلمانوں میں سے صاحب نوفین لوگ بھی بہت کم قربانی کرتے ہیں۔ ہیں ۔ سوائے حج کے کہ اس موقعہ پر میں نے دیکھا ہے بڑی کثرت کے ساتھ قربانیاں کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ عید، عید الاضحیہ اسی طرح ہو گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کروڑوں کی تعداد میں امت ملی۔ چنانچہ کہتے ہیں اس وقت مسلمانوں کی تعداد 40 کروڑ ہے۔ اگر ان ساٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے فی کروڑا ایک مسلمان بھی بنتِ رسول پر صحیح طور پر عمل کرنے والا ہو تو ۶۰ آدمی قربانی کرنے والے نکل آتے ہیں ۔ اور اگر لاکھ میں سے ایک آدمی سنت رسول پر عمل کرنے والا ہو تو ۰۰۰ مسلمان قربانی کرنے والا نکل آتا ہے ۔ اور اس طرح یہ عیب حقیقی معنوں میں عید الاضحیہ بن جاتی ہے گو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عید کا نام عید الاضحیہ رکھ کر بتایا کہ آپ کی امت کو خدا تعالے اس قدر بڑھائے گا کہ اگر ان میں سے اس موقہ پر بہت کم قربانی کرنے والے لوگ ہوں تب بھی ان کی قربانیاں ایک بہت بڑا مجموعہ ہو جائیں گی پیس ریسید بڑی شاندار عید ہے جس کی مثال دنیا میں اور کہیں نہیں ملتی ۔ اس موقعہ پر لوگ بجروں اور دنیوں کی قربانیاں کرتے ہیں لیکن قرآن کریم فرماتا ہے ۔ لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَئِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ اللہ تعالیٰ کو ان قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ قربانی کرنے والوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ پس اصل قربانی وہ ہے جو انسان اپنی اور اپنے اہل وعیال کی پیش کرے اور یہی وہ سبق ہے جو عید الاضحیہ نہیں سکھاتی ہے۔ چنانچہ دیکھ لو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسمعیل اور حضرت ہاجرہ کو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ آئے ۔ تو گو وہ خود اس جنگل سے باہر چلے گئے لیکن ان کی قربانی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کی جدائی کا دکھ اٹھایا اور سیوری کی یہ قربانی تھی کہ اس نے اپنے خاوند کی جدائی کا دکھ اٹھایا اور اپنے بیٹے کا دُکھ دیکھا اور بیٹے کی قربانی یہ تھی کہ وہ اپنی مرضی سے ایک ایسے جنگل میں بس گیا جہاں دور دور تک انسان نظر نہیں آتا تھا ۔ اور اس نے نہ صرفت خود پیاس اور بھوک کی تکلیف اُٹھائی بلکہ ماں اور باپ کا دکھ بھی دیکھا پس وہ قربانی کسی ایک فرد کی نہیں تھی جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت سہیل علیہ السلام کو ایک اور بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ کر کی بلکہ درحقیقت وہ سارے خاندان کی قربانی تھی۔ میں سمجھتا ہوں اگر