خطبات محمود (جلد 2) — Page 381
نے میرے ملک پر حملہ کر دیا ہے۔میری یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ تم میں یہ جوڑت کسی طرح پیدا ہوئی تھی وہ جو جو ہڈیاں کھایا کرتے تھے ، نہ تمہارا کھانا اچھا تھا نہ پینا اچھا تھا ، نہ تمہارا لباس اچھا تھا۔تم نگے پھر تے تھے ، اخلاق تر میں تھے ہی نہیں ، ماؤں سے تم نکاح کر لیتے تھے۔تھیں کیا سوجھا کہ تم جمال۔کے لئے آگئے اگر تم پر غربت کا بہت ہی دور آگیا ہے تو میں تم میں سے ہر افسر کو دو دور اشرفی اور بر سپاسی کو ایک ایک اشتر نی دینے کے لئے تیار ہوں۔تم روپیہ لو اور واپس چلے جاتے اس زمانہ میں گور و پیر کی بڑی قیمت تھی مگر پھر بھی پتہ لکھتا ہے کہ اس کی نگاہ میں عربوں کی کیا حیثیت بھی ہوب کا جو شکر ایران پر حملہ آور ہو رہا تھا، اس کی حیثیت ایران کے بادشاہ کے نزدیک یہ تھی کہ سمجھتا تھا کہ اگر میں ان کو پندرہ پندرہ روپے دے دوں تو یہ واپس جانے کے لئے تیار ہو جائیے اب پینتالیس روپے ماہوار اور راشن سپاہی کو ملتا ہے مگر وہ بجھتا تھا کہ اگر میں انہیں صرف پندرہ پندرہ روپے بھی دیدوں گا تو یہ واپس چلے جائیں گے اور کہیں گے کہ اچھا اب ہم چلتے ہیں۔تو ایران کے بادشاہ کے نزدیک عربوں کی حیثیت اتنی ہی تھی مگر جو اس وفد کے سردار تھے انہوں نے کہا تم جو کچھ کہتے ہو ٹھیک ہے ہم ایسے ہی تھے۔ڈیڑیاں کھاتے تھے مردار کھاتے تھے ، ماؤں سے نکاح کر لیا کرتے تھے مگر اب اللہ تعالے نے ہم ہمیں اپنا رسول بھیج دیا ہے جس کی وجہ سے ہماری حالت بدل بیچی ہے اور ہم خدا تعالے کے وعدوں کے مطابق تمہارے ملک پر حملہ آور ہوئے ہیں۔بادشاہ کو غصہ آیا، اس نے درباریوں کو حکم دیا کہ مٹی کا ایک بورا لاؤ اور اس کے سر پر رکھا۔باقی صحابہ کو غصہ آیا کہ یہ ہمارے امیر کی بہتک کرتا ہے مگر وہ ہنس پڑا۔اور اس نے کہا انہیں مٹی کا بورا میرے سر پر رکھنے دو جب انہوں نے مٹی کا بورا اس کے سر پر رکھ دیا۔تو وہ دربارہ سے۔بھاگے اور انہوں نے بلند آواز سے کہا کہ بادشاہ نے ایران کی زمین اپنے ہاتھ سے ہمارے سپرد کردی ہے مشرک بڑا وہی ہوتا ہے، اب تھا تو یہ ایک لطیفہ مگر وہ گھبرا گیا اور اس نے سمجھا کہ یہ توبڑی بدشگونی ہوئی چنانچہ اس نے حکم دیا کہ دوڑو اور ان کو پکڑ کر واپس لاؤ۔مگر غریب لوگ گھوڑے کی سواری کے بڑے مشاق ہوتے ہیں۔وہ دربار سے نکلنے تو انہوں نے اپنی گھوڑوں کو ائیر بال لگائیں اور وہ کہیں سے کہیں نکل گئے ہے یہ کیفیتیں تھیں صحابہ کی ، دنیا حیران بھی کہ یہ لوگ کہاں سے آگئے۔جس طرح ٹڈی آتی ہے تو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔کوئی روس کے میدانوں سے آتی ہے ، کوئی چین کے میدانوں سے آتی ہے ، کوئی عرب کے میدانوں سے آتی ہے اور وہ سارے علاقہ پر چھا جاتی ہے۔اتنا چھوٹا سا جانور ہوتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں لوگ عاجز آجاتے ہیں اور پھر اس کی نسل میں خداتعالے نئے اتنی بڑھوتی رکھی ہے کہ جہاں میٹی اور اس نے انڈے دیئے۔وہ اگلے سال پھر ری پیدا ہو جاتی ہے اور فصلوں کو تباہ کر دیتی ہے۔یہی علامت بڑھنے والی قوموں کی ہوتی ہے۔