خطبات محمود (جلد 2) — Page 378
تک کی تنخواہ ہزار روپیہ ہوئی مگر اب ڈپٹی کمشتہر کی تنخواہ تین ہزار روپیہ ہوگئی تھی۔اسی طرح ھستان سے جو سیاہی آئے ان کو صرف تین رو ایسے مفتہ کے ملتے تھے یعنی بارہ روپے ماہوار ہے ہمارے مبند دستانی سپاہی کی تنخواہ بعد میں اس سے زیادہ ہو گئی تھی یعنی آج سے پندرہ سولہ سال پہلے اسے اٹھارہ روپے ماہوار ملتے تھے۔مگر وہ چھ ہزار میل سے اپنا وطن چھوڑ کہ آتا اور سے تین روپے ایک ہفتہ کے ملتے اور وہ بھی کشت نہیں بلکہ ایک روپیہ مفتی وار ملتا نہ اور دور دیے سرکاری خزانہ میں جمع رکھے جاتے اور کیا جاتا کہ یہ دو پہیہ اس لئے جمع کیا جا رہا ہے۔تم واپس جاؤ تو اپنے بیوی بچوں کے لئے لے جاؤ۔مگر اس وقت ساری دنیا میں انگریز ہلے جاتے تھے۔ان میں دلیری بھی تھی ، طاقت بھی بھی ہمت بھی تھی۔مگر جب دولت آئی اور ترقہ برا ہوا تو ان کی تنخواہیں پڑھنی شروع ہوئیں اور یا تو پہلے انگریز گھوڑے پر سوار ہو کر سان اسان اون دھوپ میں پھرتا رہتا تھا اور اس کے ماتحت ایسے کہتے تھے کہ جناب کچھ آرام بھی کر لیجئے اور یا پھر ڈاک بنگلے بن گئے جن میں وہ اترا کرتے۔اب سارا دین سیکھے چل رہے ہیں۔برفیں آرہی ہیں۔شیرا ہیں پی جارہی ہیں نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں ہیبت نہ رہی۔اور مہندوستانیوں نے انگریزوں کو پکڑ کر نکال دیا یہ گاندھی جی نے اعلان کیا تھا کہ اگر تم ساری ہندوستانی اکٹھے ہو جاؤ تو تم ان لوگوں کو میرا یہاں سے نکال سکتے ہو اور میمندر سے پرے دھکیل سکتے ہو۔لوگوں نے سمجھا کہ گاندھی جی کوئی معجزہ دکھانے لگے ہیں۔حالانکا حقیقیت یہ تھی گاندھی جی اپنے ملک کے لوگوں کے متعلق تو سمجھتے ہی تھے۔کہ وہ فاضل اور شکست میں لیکن وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ انگریز مر چکے ہیں اور اب انکی لاش کو پھینکنا کوئی مشکل کام نہیں۔ستم کی لاش بھی اسی طرح اٹھا کر پھینکی جاسکتی ہے جس طرح ایک کتے کی لاش بے گانہ معنی جی کی ذہانت اور ہوشیاری یہ تھی کہ وہ یہ مجھ چکے تھے کہ انگریز اب مر چکا ہے ، اور نیم جان ہندوستانی بھی ہے اٹھا کر پیسے پھینک سکتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو یا انگریز کو مہندوستان نے ہی اٹھا کر نہیں پھینکا، سیلون نے بھی اسے پھینکا ، ہر مانے بھی اسے پھینکا، مصر نے بھی اسے پھینے کا ؛ ایران نے بھی اسے پھینکا، عراق نے بھی اسے پھینکا ، غرض تمام ممالک کے لوگوں نے اسے اپنے اپنے ملک سے نکال دیا۔آخر سمٹ سمٹا کر وہ انگلستان میں محدود ہو کر رہ جائیں گے اور پھر کچھ مدت کے بعد ممکن ہے ان کی ہیں ہی حالت ہو جائے جیسے ابتداء میں تھی کہ چمڑے کے تہ بند باندھا کرتے تھے اور ننگے جسم رہا کرتے تھے تھے یا اگر یہ زمانہ نہ آئے تو اس کے قریب قریب ان کی حالت پہنچ جائے۔گاندھی جی کی عقلمندی یہ نہیں تھی کہ انہوں نے بین استانیوں کو زندہ کیا۔ان کی عقلمندی تھی کہ انہوں نے دیکھ لیا کہ انگریز مریکا ع ہے۔اور اب ذرا سے اتحاد کی ضرورت ہے اگر ہندوستانی اکھٹے ہو جائیں تو وہ ان کو بڑی آسانی لیا