خطبات محمود (جلد 2) — Page 377
لريم نموده اگست ۱۹۵۴ - مقاطه مه آباد رسند عید میں کیا بات کا سبق دیتی ہے کہ کس طرح قربانیوں سے قومیں بنتی ہیں اور کس حسرت عیاشیوں سے قومیں مرتی ہیں جس طرح موت ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان پر آتی ہے مگر پھر بھی لوگ اسے یاد نہیں رکھتے۔ اسی طرح قومی تباھی بھی ایسی چیزی ہے جو ہر قوم پیا پہ آتی ہے مگر پھر بھی کوئی قوم اسے یاد نہیں رکھتی یہ ایسا سبق ہے جسے آجنگ کبھی کسی نے یاد نہیں رکھا ۔ اس یاد نہیں رکھا۔ اس کی مثال بالکل یسی ہی ہے جیسے بھیڑوں میں سے جب اگلی بھیڑ کوئی کام کرے تو دوسری بھیٹر بھی وہی کام کرنے لگتی ہے جو پیلی نے کیا ہوتا ہے۔ اگر آگے گڑھا ہو اور پیلی بھیڑ اس میں گر جائے تو دو سرنی بھی اس میں کرتی ہے اور تیسری بھی اس میں گرتی ہے ۔ یہانتک کہ چرواہا انہیں بٹائے تو وہ مٹتی ہیں ورنہ اس میں گرتی چلی جاتی ہیں۔ علم حیوانات کے ماہرین نے ایک دفعہ تجربہ کر کے دیکھتا ہے کہ بھیڑوں کے گلے کے آگے دو آدمی ایک ریستی پیرھ کر بیٹھ گئے اور گیارہ انچ انہوں نے رستی کو اونچا رکھا جب بھیڑیں وہاں پہنچیں تو پہلے پہلی بھیڑ کو دی پھر دوسری کو دی اور اس کے بعد میری کو دی ۔ دو تین بھیڑوں کے کو دینے کے بعد انہوں نے رستی مثالی مگر ہزار بھیڑ اسی طرح کو دنی چلی گئی ۔ جب بھی کوئی بھیڑ وہاں پہنچتی تو وہ کود کر اس جگہ سے گزرتی ، گویا اپنے خیال کے نتیجہ میں وہ ایسی اندھی ہو جاتی ہیں کہ دیکھتی نہیں کہ واقعہ کیا ہے ۔ یہی حال قوموں کا نظر آتا ہے جب کوئی قوم غریب ہوتی ہے مانا تو ان ہوتی ہے ، کمزور ہوتی ہے اور اس کے افراد دولت مند قوموں کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے بڑے بڑے محلات بنائے ہوئے ہیں ، بڑے بڑے تکلفات کے سامان ان میں موجود ہیں آٹھ آٹھ دس دس نوکر ایک ایک شخص کے ہیں ، انہوں نے وردیاں پہنی ہوئی ہیں، پیٹیاں باندھی ہوئی ہیں اور جب وہ گھر کے دروازہ پر پہنچتا ہے تو وہ اسے سلام کر کے بڑی عزت سے بٹھاتے اور اس کی خدمت کے لئے آگے پیچھے دوڑتے ہیں تو بجائے یہ خیال کرنے کے کہ یہ قوم تباهی کی طرف جا رہی ہے۔ دیکھنے والا دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ اگر مجھے دولت ملی تو میں بھی اسی طرح کر دونگا ۔ وہ دیکھتا نہیں کہ یہ اس قوم کی موت کی علامت ہے جب قومیں مرنے لگتی ہیں تو اسی طرح کرتی ہیں اور اگر وہ اس طرح نہ کریں تو مریں کیوں ۔ مگر بجائے اس کے کہ وہ تو بہ کرے اور کہے کہ یہ مہینے نگے ہیں اور خدا کا شکر کرے کہ اب ان کی گھر کسی پر بیٹھنے کے لئے میری باری آئی ہے وہ اپنی کی نقل کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے اور اس طرح خود بھی تباہ ہو جاتا ہے پہلے انگریزیہ آئے تو وائسرائے