خطبات محمود (جلد 2) — Page 374
کہ چھت پر بیٹھا ہوا انسان جب دیکھتا ہے کہ کسی پر شیر یا ڈاکو نے حملہ کر دیا ہے تو وہ منی گرا کر اس کو اوپر میچ لیتا ہے اسی طرح کبھی کبھار بھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالے جب دیکھتا ہے کہ کوئی شخص اس سے ملنے کی سچی تڑپ رکھتا ہے لیکن وہ ایسے ماحول میں ہے کہ اسے انبیاء کی مینمائی میشی نہیں آسکتی تو وہ خود اس کو اپنی طرف مگر انیما بهت شاد ہوتا ہے، اور شادیر کیسی قانون کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ۔ بھار بانوان میں ہے کہ جو لوگ خدا نما وجود ہوتے ہیں انہی کے ذریعہ انسان کو روحانی ترقی ملتی ہے۔ اور اس ترقی کے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ انسان دنیوی محبتوں کو سرد کر کے ، ان کی محبت کو اپنے اور پر غالب کرے۔ جب وہ ان کی محبت کو غالب کر لیتا ہے تو ان کا نمونہ اختیار کرنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی غیر ہے جس کی میں اقتداء کر رہا ہوں بلکہ دسمجھتا ہے کہ یہ میرا باپ ہے اور اس کا خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ یہی سبق اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحمدٍ و عَلَى آلِ محمد میں سکھایا گیا ہے اور پھر آگے ابراہیم اور آل ابراہیم کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وہ ابراہیمؑ کی اولاد میں بھی شامل ہو جاتا ہے ۔ پھر جو وا کی اولاد کام اسمعیل نے کیا وہی کام وہ خود بھی کرنے لگ جاتا ہے ۔ اس لئے نہیں کہ اگر اسمعیل نے یہ قربانی پیش کر دی تھی تو میں کیوں نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس لئے کہ وہی خون جو سامعین کی رگوں میں دوڑ رہا تھا میری رگوں میں بھی دوڑ رہا ہے ۔ اور میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا ہوکر ابراہیم بھی بیٹی ہوں اور ابراہیم کا بٹیا ہوکر معیل کے کاموں میں اس کا شریک ہوں نہیں جو کام اس نے کیا وہ میں بھی کروں گا۔ جو شخص اس نقطہ نگاہ دو سرور اس کے نصیحت حاصل سی خاندان کے افراد کی قربانی اور ان لئے عبد الام نسان کا انسان کے ان ا کر سکتا ہے وہ کسی دوسرے کی قربانی اور اس کا نمونہ تغیر میدا نہیں کر سکتا ۔ پس عید الا ضحیہ کے آنے پر ہر سلمان یہ سبق تازہ کرتا ہے کہ اسمیں کسی غیر کا ذکر ہیں بلکہ بانی کا ذکر نے رنہ دکھایا تھا تو میں کیوں نہیں دکھا یسی قربانی تو اس کا دوسرا بیٹا ایسی قربانی کیوں نہیں کر سکتا ۔ جاہ حقیقت تو یہ ہے کہ چونکہ ہم محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل میں سے ہیں جو ساری دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔ اس لئے ایک سچا مسلمان توالی موقع پر یہ کے گا کہ اگر حضرت ابراہیمیہ نے حضرت ابراہیمیہ نے سندا کی راہ میں اپنا ایک بیٹا قربان کیا تھا تو میں دین کی راہ میں اپنے