خطبات محمود (جلد 2) — Page 373
۳۷۳ جوڑے ہوتے ہیں اور زار و قطار رو رہی ہے۔اور کہہ یہی ہے کہ حضور میرا ایک ہی بیٹیا ہے میں نہیں چاہتی کہ یہ اچھا ہو جائے میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ یہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے اور پھر خواہ اسی وقت مرجانے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت تیرہ سو سال گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کے دلوں میں اپنی پائی جاتی ہے کہ ایک ایسی عورت جو نہایت ادنی اور ڈلیل خاندان میں سے تھی وہ بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کا لڑکا کلمہ پڑھے بغیر اس دنیا سے گزر جائے مگر وہ لڑکا بھی بڑا پنچا عیسائی تھا۔اسے تبلیغ شروع ہوئی تو اس نے ارادہ کیا کہ قادیان سے بھاگ جائے۔چنانچہ ایک رات کو وہ اٹھا اور ہماری کی حالت میں ہی بٹالہ کی طرف بھاگ گیا۔کچھ دیر بعد اس کی ماں کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ چار پائی خالی پڑی ہے۔وہ سمجھ گئی کہ میرا لڑکا بھاگ گیا ہے۔چنانچہ وہ بھی اس کے پیچھے بھائی اور پانچ سات میل پر جا کر اس نے اپنے بیٹے کو پکڑا اور پھر اسے قادیان واپس لائی۔اور اس طرح گڑ گڑا گڑ گڑا کر وہ حضرت سیه موعود علیہ السلام سے کہنے لگی کہ حضور و نا کریں یا یک گڑ دفعہ کلمہ پڑھ یہ پھر بے شک ، جائے۔مجھے اس کی پرواہ نہیں۔آخر خدا نے اس کی دعائن بلی اور وہ لوڈ کا مسلمان ہو گیا اور پھر چند دنوں کے بعد مر گیا۔اس کی ماں نے اس صدمہ کو بڑ ہے۔مبر سے برداشت کیا۔اور وہ خوش تھی کہ میرا لڑکا عیسائی ہو کر نہیں مرا بلکہ کلمہ پڑھ کر مرا ہے۔تو رشتوں کی محبت بے شاب جاہل لوگوں اور نادان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے لیکن انسانیت کا مقام اس محبت سے انسان کو اونچا لے جاتا ہے۔جتنا نیچے چلے جائے محبت کا ذریعہ مادیت ہوتی ہے لیکن جتنا اوپر چلے جاؤ محبت کا ذریعہ روحانیت ہوتی ہے۔جتنا جتنا انسان جانوروں میں شامل ہو گا۔اتنی ہی اس میں مادیت والی محبت اور بھائیوں اور رشتہ داروں کی محبت زیادہ ہوگی اور جتنا جتنا اونچا ہو گا۔اتنی ہی اس کی محبت بھی بلند سے بلند تر ہوتی چلی جائے گی۔پہلے وہ اپنی اولاد سے زیادہ محبت رکھے گا۔پھر اور اونچا ہو گا تو اپنے خاندان سے محبت رکھے گا۔اور اونچا ہو گا تو اپنے وطن سے محبت کرنے لگ جائے گا۔اور اونچا ہوگا تو اپنی قوم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔اور اونچا ہو گا تو انسانیت سے محبت کرنے لگ جائیگا۔اور اونچا ہو گا تو دین الہی سے محبت کرنے لگ جائیگا۔اور اونچا ہو گا تو فرشتوں سے تعلق رکھنے لگ جائے گا۔اور اونچا ہو گا، تو اس کا خدا سے تعلق ہو جائے گا۔مگر خدائی تعلق کا پہلا نہ یہ خدا تعالے کے نبیوں سے تعلق پیدا کرنا ہے جس طرح تمہارے لئے یہ ناممکن ہے کہ تم چھلانگ النگا کر چھت پر چڑھ سکو اسی طرح تمہارے لئے یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالے کی طرف رہنمائی کرنے والے وجودوں کو چھوڑ کر تم خدا تعالے سے حلق پیدا کر سکو مگر جس طرح کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے