خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 373

۳۷۳ جوڑے ہوئے ہیں اور زار و قطار رو رہی ہے ۔ اور کہ یہی ہے کہ حضور میرا ایک ہی بیٹا ہے میں نہیں چاہتی کہ یہ اچھا ہو جائے لیکن صرف اتنا چاہتی ہوں کہ یہ ایک دفعہ کلمہ پڑھ لے اور پھر خواہ اسی وقت مر جانے ۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت تیرہ سو سال گذرنے کے بعد بھی مسلمانوں کے دلوں میں اتنی پائی جاتی ہے کہ ایک ایسی عورت جو نہایت ادنی اور ذلیل خاندان میں سے تھی وہ بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کا لڑکا کلمہ پڑھے بغیر اس دنیا سے گزر جائے مگر وہ لڑکا بھی بڑا پکا عیسائی تھا۔ اسے تبلیغ شروع ہوئی تو اس نے ارادہ کیا کہ قادیان سے بھاگ جائے۔ چنانچہ ایک رات کو وہ اٹھا اور بیماری کی حالت میں ہی بٹالہ کی طرف بھاگ گیا۔ کچھ دیر بعد اس کی ماں کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ چار پائی خالی پڑی ہے ۔ وہ سمجھ گئی کہ میرا لڑکا بھاگ گیا ہے۔ چنانچہ وہ بھی اس کے پیچھے بھائی اور پانچ سات بیل پر جا کر اس نے اپنے بیٹے کو پکڑا اور پھر اسے قادیان واپس لائی ۔ اور اس اس طرح گڑ گڑا گڑ گڑا کر وہ حضرت سیه موعود علیہ السلام سے کہنے لگی کہ حضور دعا کریں یہ ایک الله ی دفعہ کلمہ پڑھے پھر بے شک ، جائے ۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ۔ آخر خدا نے اس کی دعائن لی اور وہ لو کا مسلمان ہو گیا اور پھر چند دنوں کے بعد مر گیا ۔ اس کی ماں نے اس صدمہ کو بڑ ہے۔ صبر سے برداشت کیا۔ اور وہ خوشش تھی کہ میرا لہ کا عیسائی ہو کر نہیں مرا بلکہ کلمہ پڑھ کر مرا ہے۔ تو رشتوں کی محبت بے شک جاہل لوگوں اور نادان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے لیکن انسانیت کا مقام اس محبت سے انسان کو اونچا لے جاتا ہے۔ جتنا نیچے چلے جاؤ محبت کا ذریعہ مادیت ہوتی ہے لیکن لیکن جتنا اوپر چلے جاؤ محبت کا ذریعہ روحانیت ہوتی ہے۔ جتنا جتنا انسان جانوروں میں شامل ہوگا ۔ اتنی ہی اس میں مادیت والی محبت اور بھائیوں اور رشتہ داروں کی محبت زیادہ ہوگی اور جتنا جتنا اونچا ہوگا ۔ اتنی ہی اس کی محبت بھی بلند سے بلند تر ہوتی چلی جائے گی ۔ پہلے وہ اپنی اولاد سے زیادہ محبت رکھے گا ۔ پھر اور اونچا ہو گا تو اپنے خاندان سے محبت رکھے گا۔ اور اُونچا ہو گا تو اپنے وطن سے محبت کرنے لگ جائے گا۔ اور اونچا ہوگا تو اپنی قوم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔ اور اونچا ہو گا تو انسانیت سے محبت کرنے لگ جائیگا۔ اور اونچا ہو گا تو دین الہی سے محبت کرنے لگ جائیگا ۔ اور اونچا ہو گا تو فرشتوں سے تعلق رکھنے لگ جائے گا۔ اور اونچا ہوگا۔ تو اس کا خدا سے تعلق ہو جائے گا۔ مگر خدا ئی تعلق کا پہلا زینہ خدا تعالے کے نبیوں سے تعلق پیدا کرنا ہے جس طرح تمہارے لئے یہ ناممکن ہے کہ تم چھلانگ لنگا کو چھت پر چڑھ سکو اسی طرح تمہارے لئے یہ نا ممکن ہے کہ خدا تعالے کی طرف راہنمائی کرنے والے وجودوں کو چھوڑ کر تم خدا تعالے سے تعلق پیدا کر سکو مگر جس طرح کبھی کبھار ہے بھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے