خطبات محمود (جلد 2) — Page 369
bud اس وقت ایک ایک صحابی کے دل میں جوش آتا تھا کہ ہم اسے پیچھے ہٹائیں مگر وہ سب کے سب مجبور تھے کیونکران کے دلوں میں یہ احساس تھا کہ اس شخص کے ہم پر احسانات ہیں۔ تب صحابہ کہتے ہیں اس وقت ہمارے دل میں دریا کا جوش پیدا ہوا اور ہم نے کہا۔ خدا اب کسی با سی ایسے نیدے کو آگے لائے جس پر اس کا احسان پر ہو۔ تب ایک شخص آگے بڑھا اور رجب پھر اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی کو ہاتھ لگانے کے لئے اپنا ہاتھ آگے کیا تو اس نے ایک سخت لفظ استعمال کر کے جو میں خطبہ میں دہرا نہیں سکتا مگر بخاری اری میں موجود ہے۔ زور سے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیکر پیچھے ہٹا دیا اور کہا کہ اپنا نا پاک ہاتھ پیچھے ہٹا۔ اس نے آنکھیں اُٹھائیں یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ کون شخص ہے اور پھر اس ے اپنی آنکھیں نیچی کر لیں اور کہا کہ میں تجھے کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ میرا تجھ پر کوئی احسان نہیں ہے یہ نیا شخص ابوبکر تھا۔ گویا سارے صحابہ میں سے صرف ایک ابو بکر ہی تھے جن پر اس کا کوئی احسان نہیں تھا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ سارے اس کے احسانوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے وہ کچھ نہیں کر سکتے تو انہوں نے سمجھا کہ اب میرا کام ہے کہ میں آگے آؤں تو رشتہ داروں کی محبت اور ان کے فوائد بتانے کا واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں موجود ہے ۔ مگر پھر وہی لوگ جن کے متعلق پنجابی محاورہ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ ون ون کی لکڑی ہے۔ مختلف جنگلوں کی لکڑی ہے ، انہوں نے اپنے اخلاص اور فدائیت کا وہ نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا میں اور کہیں نظر نہیں آتی حقیقت یہی ہے کہ وہ دن دن کی لکڑی تھی اور ون دن کی لکڑی کار آمد نہیں ہوتی ۔ اگر تم نے اچھا فرنیچر تیار کرنا ہو اور مختلف قسم کی لکڑیاں تمہارے پاس ہوں ۔ کوئی دو سال کی ہو۔ کوئی پانچ سال کی ہو کوئی دس سال کی ہو، کوئی سوسال کی ہوار پھر کوئی شیشم کی ہوں کوئی کیکر کی ہونے کوئی گھیلی ہو اور کوئی سوکھی تو کبھی تم اس سے اچھا فرینچر تیار نہیں کر سکتے ۔ اچھے فرنیچر کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ایک جگہ اور ایک عمر اور ایک سی قسم کی نکردی ہو ۔ اگر مختلف جنگلوں سے مختلف قسم کی لکڑی کاٹ کر لائی جائے تو عمرہ فرنیچر نہیں بن سکتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تربیت سے اور آپ کی دعاؤں اور روحانیت کی برکت سے وہی جو مختلف جنگلوں کی کائی ہوئی لکڑیاں تھیں ان میں اتنا اتحاد پیدا ہو گیا کہ کوئی رشتہ دار اپنی محبت کا اس قسم کا نمونہ نہیں دکھا سکتا جب قسم کا نمونہ نہوں نے دکھایا ۔ اسلام کی سخت ترین جنگوں میں سے ایک غزوہ احزاب شے ہے۔ عام طور پر مسلمان چونکہ تاریخ کا مطالعہ نہیں کرتے اس لئے وہ بدر اور اُحد کی تفصیلات سے تو واقف ہیں لیکن احزاب سے نہیں ۔ حالانکہ قرآن کریم نے اس پر خاص زور دیا ہے ۔ کیونکہ احزاب کی جنگ ہی ہے جس میں دشمن نے متحدہ طور پر مسلمانوں کا مقابلہ کیا ۔ اور ایسی صورت میں کیا کہ ظاہری حالات