خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 367

۳۶۷ میں ایک باپ اور داد کتنے میں کتنا عظیم الشان فرق ہے۔ ایک شخص سمجھتا ہے کہ سامی نسل کا ایک انسان تھا جس نے یہ قربانی کی۔ وہ بھی انسان تھا اور میں بھی انسان ہوں ۔ اگر وہ یہ کام کر سکتا ہے تومیں بھی یہ ! یہ کام کر سکتا ہوں لیکن دوسرا شخص سمجھتا ہے کہ مجھے قرآنی اصطلاحات نے ابراہیم کی اولاد سے قرار دیا ہے۔ مجھے قرآنی اصطلاحات نے آ نے اسمعیل کی اولاد میں سے قرار دیا ہے۔ نہیں ! ابراهیم اور اسمعیل نے جو کچھ کیا سلامی نسل کے لئے نہیں کیا بلکہ میرے ایک باپ اور میرے ایک دادانے یہ کام کیا اور میں بھی اس کا خون اپنے اندر رکھتا ہوں ۔ جو شخص اس نقطہ نگاہ سے ابراہیم کی قربانی کو دیکھتا ہے اس کے جذبات بالکل اور ہوتے ہیں ۔ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات حدیثوں میں پڑھتے ہیں یہ حدیثیں شیعوں کی بھی ہیں اور سنیوں کی بھی ہیں لیکن جب شیعوں کی حدیثیں پڑھی جائیں تو ان میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ ہمارے نا نا محمد نا نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں کہا یا ہمارے دادا علی نے یوں کہا۔ اب جس شان کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو نانا اور علی کو داد ا کہنے والے را والے راوی کا قول نظر آتا ۔ راوی کا فو تا ہے اسی شان کے ساتھ کسی دو سی دوسرے راوی کا قول کہاں نظر آسکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں درود میں بھی نہیں تسلیم دی گئی ہے چنانچہ اللهمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وعلى ال محمد میں یہی بتا یا گیا ہے کہ ہر سلمان کو اپنی ذہنیت ایسی بدل لینی چاہئیے کہ وہ اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد میں سے سمجھنے لگے۔ جب ہم دعا کرتے ہیں کہ انہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور آپ کی آل پر فضل نازل کہ تو ظاہر ہے کہ اس جگہ آل سے مراد صرف نسل نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ شخص ہوتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ غلامی میں شامل ہوتا ہے ۔ آخر انسان کا کوئی فقرہ اس کے نام طریق کار اور معمول سے مختلف نہیں ہو سکتا ۔ یا ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی ایسی دعا نظر آنی چاہیئے جس میں آپ نے عام مسلمانوں کو باہر رکھا ہو اور صرف اپنی نسل کو شامل کیا ہو اور یا پھر سہی سمجھنا چاہیے کہ اس جگہ آل سے صرف جسمانی آل مراد نہیں بلکہ روحانی آلی مراد ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے کوئی الگ دھا نہیں کی تو ماننا پڑے گا کہ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدِ بين سار مسلمانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اور آل سے صرف جسمانی آل مراد میں بلکہ روحانی آلی مراد ہے۔ اور روحانی آن جسمانی آل سے کم نہیں ہوتی ۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں عملاً اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ جب صلح حدیبیہ کا موقعہ آیا تو عرب لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ اگر ہم مسلمانوں کو عمرہ سے روکیں گے تو سارے عرب میں ہماری بدنامی ہوگی اور دوسری طرف اگر ہم نے ان کو