خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 365

۳۶۵ سکتے ہو لیل لوگوں کی نسل میں سے ہو تو تم کیسے کامیاب ہو سکتے ہو اور اس نے مسلمانوں کے سامنے بھی ان کے پیشروؤں کے کارنامے رکھ کر بتایا ہے کہ تم ایسے شاندار پیشرو لوگوں کے قائم مقام ہو تو کس طرح ناکام ہو سکتے ہو جب مسلمان رکھوں اور تکالیف سے گھبراتے تھے تو ان کے سامنے یہ بات پیش کی جاتی تھی کہ تمہارے پیشروؤں نے تم سے زیادہ تکلیفیں اُٹھائی ہیں اور جب کبھی دشواریوں نے ان کی ہمتوں کو پست کرنا چاہا تو فورا ان کے سامنے یہ بات رکھی گئی کہ تمہارے پیشروؤں کے سپر د جو کام تھے وہ بھی اپنی عظمت کے لحاظ سے کچھ کم نہیں تھے بلکہ بہت بڑے تھے اسی طرح اگر مسلمانوں نے کبھی قربانی کرنے میں سستی دکھائی تو انہیں بتایا گیا کہ پہلے لوگوں نے بھی بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو ہمت دلانے کے لئے یہی طریق حقیات کیا تھا۔چنانچہ جب آپ نے دیکھا کہ مسلمانوں میں ان مصائب اور آلام کی وجہ سے جو دشمن کی غیر سے پیدا کئے جارہے ہیں۔گھبراہٹ کے آثار نظر آتے ہیں تو آپ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن سے یہ سلوک کیا گیا کہ انہیں کھڑا کر کے ان کے سروں پر آرہ رکھ دیا جاتا اور پھر انہیں چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا مگر پھر بھی وہ اُن تک نہیں کرتے تھے۔جب انہوں نے ان سخت مشکلات کو برداشت کر لیا تو تم کیوں برداشت نہیں کرتے نرم ٹریڈیشن یا کسی قوم کے بزرگوں کی سابقہ روایات اس قوم کو بہت دلانے اور اسے سیدی به استه پر قائم رکھنے میں بڑی محمد ہوتی ہیں۔چنا نچہ دیکھ لو ہماری ٹریڈیشن تو سورہ فاتحہ سے شروع ہو جاتی ہے۔اللہ تعالے ہمیں یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اِهْدِنَا الصراط المستقيم صراط الذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - اے خدا تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا وہ راستہ جو نعم علیہ لوگوں کا تھا اور جس پر چل کر وہ لوگ کامیاب ہوئے۔یہ منعم علیہ گروہ ہی ہے جسے قرآن کریم نے مسلمانوں کا آباء و اجداد قرار دیا ہے دنیوی آباد دنیوی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور روحانی آباد روحانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خالصہ نسلاً بعد نسل بغیر کسی شبہ کے ابراہیم علیہ سلام م ملاہوار کا پوتا ہو لیکن ابراہیم علیہ السلام کی خوبیوں اور اس کے کمالات سے اسے کچھ نہ ملا ہو اور ہوتا ہے کہ ایک شخص نسلی لحاظ سے ابراہیم علیہ السلام سے سینکڑوں سال کا فاصلہ رکھتا ہوا ور اس کا کوئی باپ دادا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے نہ ہو لیکن سویا دو سو یا ہزار پشتوں کے باوجود پھر بھی وہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہو کیونکہ ابراہیم ہیو دیوں کا باپ نہیں تھا۔ابراہیم خلیفہ اللہ تھا اور خلیفتہ اللہ ہونے کے لحاظ سے وہی اس کی نسل تھی جو خدا تعالے سے تعلق رکھتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بار بار مسلمانوں کو برا نہیمی طریق پر چلنے کی ہدایت دیتا ہے اور ابراہیم کے طریق عبادت کو اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم خود کہتا ہے کہ