خطبات محمود (جلد 2) — Page 365
۳۶۵ ذلیل لوگوں کی نسل میں سے ہو تو تم کیسے کامیاب ہو سکتے ہو اور اس نے مسلمانوں کے سامنے بھی ان کے پیشروؤں کے کارنامے رکھ کر بتایا ہے کہ تم ایسے شاندار پیشرو لوگوں کے قائم مقام ہو تو کسی طرح ناکام ہو سکتے ہو جب مسلمان دکھوں اور تکالیف سے گھبراتے تھے تو ان کے سامنے یہ بات پیش کی جاتی تھی کہ تمہارے پیش روؤں نے تم سے زیادہ تکلیفیں اٹھائی ہیں اور جب کبھی دشواریوں نے ان کی سمتوں کو پست کرنا چاہا تو فورا ان کے سامنے یہ بات رکھ دی گئی کہ تمہارے پیش روؤں کے سپرد جو کام تھے وہ بھی اپنی عظمت کے لحاظ سے کچھ کم نہیں تھے بلکہ بہت بڑے تھے اسی طرح اگر مسلمانوں نے کبھی قربانی کرنے میں سستی دکھائی تو انہیں بتایا گیا کہ پہلے لوگوں نے بھی بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مسلمانوں کو ہمت دلانے کے لئے یہی طریق اختیار کیا تھا۔ چنانچہ جب آپ نے دیکھا کہ مسلمانوں میں ان مصائب اور آلام کی وجہ سے جو دشمن کی طرف سے پیدا کئے جا رہے ہیں ۔ گھبراہٹ ہٹ کے آثار نظر آتے ہیں تو آپ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن سے یہ سلوک کیا گیا کہ انہیں کھڑا کر کے ان کے سروں پر آرہ رکھ دیا جاتا اور پھر انہیں چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا مگر پھر بھی وہ اُف تک نہیں کرتے تھے ۔ جب انہوں نے ان سخت مشکلات کو برداشت کر لیا تو تم کیوں برداشت نہیں کر سکتے ہے غرض ٹریڈیشن یا کسی قوم کے بزرگوں کی سابقہ روایات اس قوم کو بہت دلانے اور اسے سیدے به استه پر قائم رکھنے میں بڑی محمد ہوتی ہیں۔ چنا نچہ دیکھ لو ہماری ٹریڈیشن تو سورہ فاتحہ سے شروع ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دعا سکھلاتا ہے کہ احدنا الصراط المستقيم مراد الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم - اے خدا تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا وہ رستہ جو منعم علیہ لوگوں کا تھا اور جس پر چل کر وہ لوگ کامیاب ہوئے ۔ یہ منعم علیہ گروہ ہی ہے جسے قرآن کریم نے مسلمانوں کا آباء و اجداد قرار دیا ہے دنیوی آباد دنیوی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور روحانی آباد روحانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خالصہ نسلاً بعد نسل بغیر کسی شبہ کے ابراہیم علیہ السلام کا پوتا ہو لیکن ابراہیم علیہ السلام کی خوبیوں اور اس کے کمالات سے اسے کچھ نہ ملا ہوا اور ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نسلی لحاظ سے ابراہیم علیہ السلام سے سینکڑوں سالی کا فاصلہ رکھتا ہو اور اس کا کوئی باپ دادا ابرام ابراہیم علیہ السلام کی ا سلام کی اولاد میں سے نہ ہو لیکن سو یا دو سو یا ہزار پشتوں کے باوجود پھر بھی وہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہو کیونکہ ابراہیم ہیو دیوں کا باپ نہیں تھا۔ ابراہیم خلیفہ اللہ تھا اور خلیفہ اللہ ہونے کے لحاظ سے وہی اس کی نسل تھی جو خدا تعالے سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بار بار مسلمانوں کو ابراہیمی طریق پر چلنے کی ہدایت دیتا ہے اور ابراہیمہ کے طریق عبادت کو اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ خالا کہ قرآن کریم خود کہتا ہے کہ عم