خطبات محمود (جلد 2) — Page 364
۳۶۴ ۴۲ د فرموده ۲۱ اگست ۱۹۹ بمقام ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی ) ہوجہ اس کے کہ رستہ میں غالباً ایک جگہ کھانے نہیں خرابی تھی اور گھی خالص نہیں تھا، میرا گلا بیٹھ گیا ۔ یہاں آکر بھی ابھی گلے کی خرابی برابر چلی جا رہی ہے اور وہ درست ہونے میں نہیں آتی ، شاید یہاں بھی گھی میں خرابی اور ملاوٹ ہے۔ بہر حال گلے کی سوزش اور آواز کے بیٹھنے اور پھر پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے میں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ یوں تو پاؤں میں ایسی تکلیف نہیں جو کھڑے ہونے میں زیادہ دقت پیدا کر سکے ، صرف انگوٹھے میں تکلیف ہے اور پاؤں کے دوسرے حصہ پر دباؤ ڈال کر ہمیں کھڑا ہو سکتا ہوں لیکن اگر کوئی اور تکلیف ہو جائے تو پھر اسے بھی میں محسوس کرنے لگتا ہوں ۔ اسی سفر میں میں نے انگوٹھے کی تکلیف کے باوجود ایک لمبا خطبہ دیا تھا جواب تک میں درست نہیں کر سکا کیونکہ اس کا بھی طبیعت پر بوجھ معلوم ہوتا ہے ۔ ہر حال عید الاضحیہ کا خطبہ ایک مسنون خطبہ ہے اور ایک بڑے واقعہ کی یاد دلاتا ہے اس لئے لئے کچھے کچھ نہ کچھ تو اس موقعہ کے مناسب حال کہنا ضروری ہوتا ہے ۔ اس لئے تکلیف کے باوجود میں یہاں آگیا ہوں۔ قوموں میں یادگاریں تا تم رکھنے کا بڑا بھاری رواج ہے اور مختلف قومیں اپنی اپنی یادگار تائم رکھتی ہیں۔ اوروں کو جانے دو چوہڑوں اور چاروں تک میں یہ حساس پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی قومی روایات کو متا ئم اور زندہ رکھیں اور انہوں نے بھی اپنے لئے کوئی نہ کوئی فخر کی بات نکالی ہوئی ہوتی ہے ۔ علم النفس کے ماہرین کا تجربہ ہے کہ انسانی جد و جہد جو اپنے نفس کی بہتری کے لئے کیجاتی ہے ، اس کو جاری رکھنے اور پوری شان کے ساتھ جاری رکھنے کے لئے جن ذرائع کو استعمال کیا جاسکتا ہے ان ذرائع میں سے زیادہ اہم اور موثر ذریعہ ٹریڈیش (TRADITIONS ) مینی روایات سابقہ ہوتی ہیں۔ ایک بچہ جب اپنے کام کے لئے اپنی جد وجہد کو لمبا نہیں کر سکتا تو اس دار اور دوست اور عزیز و اقرباء اسے کہتے ہیں کہ ذرا یا د رکھنا تم کن کی اولاد میں سے کے رشتہ دارا ہو اور اور فورا اس کی طبیعت اصلاح کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور وہ اپنی ناکام جد وجہد نا کام جد و جہد کو کامیابی میں بدل دیتا ہے ۔ قرآن کریم نے بھی اس طریق کو استعمال کیا ہے اور اس نے لوگوں کے سامنے ان کے آباد کے کارنامے رکھے ہیں بلکہ قرآن کریم نے یہ حربہ دوہرے طور پر استعمال کیا ہے ۔ اس نے کفار کے آگے بھی ان کے آباد کے کارنامے رکھتے ہیں اور انہیں توجہ دلائی ہے کہ جب تم ایسے