خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 361

۳۶۱ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ احمدیت کی تعلیم جب بھی مسلمانوں کے سامنے آئے گی ان کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ احمدیت قبول کر لیں گے اس میں شبہ نہیں کہ ہزار وقت ایسے آتے ہیں جب دلیل ضائع ہو جاتی ہے لیکن پھر بھی انسان پر کچھ نہ کچھ بیداری آتی ہے اور جب بھی کسی پر بیداری آتی ہے۔اور اس کے دل کی کھڑکی کھلتی ہے وہ سچائی کو قبول کر لیتا ہے۔آخر وہ لوگ بھی تھے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پہلے دن ایمان لائے جیسے حضرت ابو بشیر احمد حضرت خدیجہ حضرت علی اور حضرت زیدہ اور وہ لوگ بھی تھے جو بیسیویں سال ایمان لائے کہ جیسے حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن عائش۔بے شک جو عقل خالہ میں بیسویں سال تھی وہی پہلے سال بھی تھی۔لیکن فرق یہ تھا کہ پہلے سال ان کے دل کی کھڑکیاں نہیں کھلی تھیں۔حضرت عمر و بن عاص میں بھی عقل تھی جو انہیں پہلے سال مسلمان بنا سکتی تھی لیکن ان کے دل کی کھڑکیاں بھی نہیں کھلی تھیں۔حضرت ابو بکر کیا حضرت خدیجہ ، حضرت علی اور زید کی کھڑکیاں کھلی تھیں اس لئے وہ پہلے دن ایمان لے آئے کیلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فرمایا که یکین خدا تعالے کی طرف سے مبعوث ہوا نہوں تو ان سب نے اُمَنَّا وصَدَّقنا کہا۔لیکن کچھ لوگوں کی کھڑکیاں سال بعد کھلیں ، کچھ لوگوں کی کھڑکیاں دو سال بعد کھلیں ، کچھ لوگوں کی کھڑکیاں چار سال بعد کھلیں اور بعض لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے قریب ایمان لائے۔پس کھڑ کی کھلنے کی بات ہے ورنہ یہ یقینی بات ہے کہ جب کسی کی کھڑ کی کھلے گی ، اوہ احمدیت قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کیونکہ جس طرح مولویوں نے اسلام کی شکل کو بگاڑ کو پیش کیا ہے، کوئی مسلمان مختی بالطبع ہو کر اسے مان نہیں سکتا۔جو اسلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کیا ہے جو تشریح قرآن کریم اور حدیث کی آپ نے پیش کی ہے وہی ہے جسے دنیا آرام اور خوشی سے مان سکتی ہے باقی تشریحیں جو مولوی کرتے ہیں وہ ڈنڈے سے تو منوائی جا سکتی ہیں عقل سے نہیں منوائی جا سکتیں۔اب میں دعا کر دیتا ہوں کہ خدا تعالئے مسلمانوں کو ہدایت نصیب کرے ، انہیں سعادت نصیب کرہے۔خدا تعالے انہیں توفیق دے کہ جس طرح وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر حج کے لئے گئے ہیں خدا تعالے بھی انہیں اپنا بنا لے تاکہ وہ اللہ تعالے کا سچا قرب حاصل کر سکیں۔اور ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو حج کی توفیق عطا فرمائے اور محمد سول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا مولدا اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کا اٹھایا ہوا گھر وہ عزت و شوکت حاصل کرے جس کا وہ مستحق ہے۔مسلمان اپنے گھروں میں بھی سب سے زیادہ مومن سب سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اطاعت گزار اور آپ کے فرمانبردار ہوں اور