خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 360

۳۶۰ 7 چاہیے اور اپنے اپنے محلہ میں رکھنا چاہئیے کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جن پر حج فرض ہے اور انہوں نے حج کیا ہے۔ پھر دیکھو کتنے لوگ مکان بنا رہے ہیں۔ ہجرت کے چار سال کے بعد ہی کئی مہاجرین نئے مکان بنا رہے ہیں۔ پیچھے چھوڑے ہوئے سامان کے متعلق جو را ناجور پورٹیں وہ گورنمنٹ کو دیتے ہیں ان میں سے کوئی دو لاکھ کی ہوتی ہے کوئی تین لاکھ کی ہوتی ہے ۔ اگر یہ بات صحیح ہے کہ ان کی جائداد اس قدر تھی تو انہوں نے حج کیوں نہیں کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دلوں میں حج کی وہ عظمت نہیں رہی جو ایک سچے مسلمان کے دل میں ہونی چاہیئے اور افسوس کہ احمدیوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔ اب اس عید سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دلوں میں حج کی عظمت پیدا کرو اور زیادہ سے زیادہ حج کے لئے جاؤ تا کہ حج کی غرض پوری ہو اور حج سے جو خدا تعالیٰ کا منشاء ہے وہ پورا ہو اور پھر جو لوگ حج کے لئے جائیں ، ان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس بات پر غور کریں کہ آج با وجود اتنی تعداد میں ہونے کے مسلمان آزاد کیوں نہیں مسلمان منتظم کیوں نہیں وہ اسلام کو اس کی پہلی شان پر لے جانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ وہ ان ذرائع پر غور کیوں نہیں کرتے جن سے اسلام کو پہلی شان حاصل ہو۔ اگر مسلمان غور کریں گے تو انہیں احمدیت کے سوا کوئی اور جگہ نظر نہیں آئے گی ۔ احمدیت کے اصولی ہی ایسے ہیں جن پر عمل کر کے ہم اسلام کو وہی اعت شان دلا سکتے ہیں جو اسے پہلے حاصل تھی ۔ صرف پاکستان کی گورمنٹ کا یہ کہہ دیا کہ احمدی نجات کے سرکاری آفیسر ز اپنے اپنے محکمے کے لوگوں کو تبلیغ کرتے ہیں۔ درست نہیں اگر یہ بات تھی تو ان کا فرض تھا کہ وہ اس کا ثبوت دیتے کہ فلاں افسر کی وجہ سے فلاں محکمے کے اتنے لوگ احمدی ہو گئے ہیں محض مولویوں نے یہ بات کہی اور حکومت نے یہ خیال کر کے کہ وہ ان کے بزرگ ہیں اور ہمیشہ ہی سچ بولتے ہیں ، ان پر اعتبار کر لیا ۔ حالانکہ دو جھوٹ مل کر سچ نہیں ہو جاتے وہ زیادہ خطرناکی گناہ بن جاتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ احمدیت وہ چیز پیش کرتی ہے کہ جب انسان محلی با بطبع ہو کر اس پر غور کرے گا تو وہ ضرور ایمان لے آئے گا ۔ جن عقائد اور تعلیموں کو احمدیت پیش کرتی ہے اگر انسان تعصب کی بیٹی اتار کر ان پر غور کرے گا تو وہ احمدی ہو جانے پر مجبور ہو گائیں وجہ ہے کہ مولوی کہتے ہیں کہ احمدیوں کی باتیں نہیں سنتی چاہییں ۔ احمدیوں کو پتھر مارو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب ایک مسلمان محلی بالطبع ہو کر احمدیت کی تعلیم پر غور کرے گا تو اس پر ان کی دلیل کارگر نہ ہوگی ۔ احمدیوں کے دلائل کے مقابلہ میں ان کی دی ہوئی دلیل کوئی حیثیت نہیں بلہ رکھتی اس لئے وہ اس بات کی جرات نہیں رکھتے کہ وہ دوسروں کو احمدیوں کی باتیں سننے دیں ۔ کبھی وہ گورنمنٹ کے آگے ناک رگڑتے ہیں کبھی وہ پبلک کو احمدیوں کا بائیکاٹ کرنے پر م کسا تے ہیں کبھی وہ یہ فتوی دیتے ہیں کہ جو شخص احمدیوں کی باتیں سنے گا وہ کافر ہو جائے گا۔