خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 359

کہ احمدیوں کی مساجد خیر احمدیوں کی مساجد سے زیادہ آباد ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض احمد یو میں شکستی پائی جاتی ہے لیکن یہ مستی اسی رنگ میں ہے کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرنے میں با قاعدہ نہیں۔ویسے وہ نماز پڑھتے ہیں۔اور شاید سو میں سے ایک احمدی ایسا نکلے جو نماز میں سست ہوں اکثر حصہ نماز پڑھ لیگا۔روزہ میں بھی احمدی اچھے ہیں گو خواہ رسما ہی سہی۔خیر احمدیوں میں بھی روزہ اچھا ہے۔اس میں ہم ان پر الزام نہیں لگا سکتے۔زکوٰۃ میں احمد سی بہت زیادہ اچھے ہیں دوسرے مسلمانوں میں اس فریقینہ کی طرف بہت کم توجہ ہے۔پس چاروں ارکان عبادت میں سے روزہ میں تو ہم فضیلت کا دعوی نہیں کر سکتے ہاں تھوڑا بہت فرق ہو تو کوئی بات نہیں لیکن نماز اور زکوۃ میں احمدیوں کا پلہ یقینا بھاری ہے اور اس بار میں احمدیوں اور غیر احمدیوں میں نمایاں فرق ہے۔لیکن حج میں بظا ہر کوئی فرق نہیں حالانکہ ہمارا فرض آدھی اصلاح کرنا نہیں بلکہ پوری اصلاح کرنا ہے جب تک روزے اور حج میں بھی احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں میں نمایاں فرق نظر نہ آئے۔اس وقت تک ہم پوری اصلاح کا دعوی نہیں کر سکتے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ احمدی روزہ میں آوارگیاں نہیں کرتے۔گالی گلوچ نہیں کرتے، قرآن کریم کا درس سنتے ہیں پھر نسبتا زیادہ روزے رکھتے ہیں لیکن کوئی نمایاں فرق نہیں۔یہاں بھی رپورمیں ایسی آتی ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض نوجوان روز سے نہیں رکھتے۔ہمارے خاندان کے بعض لوگ بھی روزے نہیں رکھتے اور خرابی صحت کا تعذر کر دیا جاتا ہے۔اس طرح ڈاکٹر بھی۔اس گناہ میں شامل ہو جاتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر اس بارہ میں ان کی مدد کرتے ہیں بال حقیقت یہی ہے۔کہ احمدیوں سے بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو روزے نہیں رکھتا حالانکہ ان کی عمر اور صحت ایسی نہیں ہوتی۔کہ وہ روزے نہ رکھ سکیں۔کمزوری اور چیز ہے اور ترک اور چیز ہے نہ مثلاً ایک شخص نماز پڑھتا ہے لیکن وہ با وجود طاقت کے مسجد میں نہیں جاتا تو ہم اسے کمزور کہیں گے، تارک نہیں کہیں گے کیونکہ اس نے نماز چھوڑی نہیں۔اس طرح اگر کوئی شخص روزہ میں احتیاط نہیں کرتا وہ گالی گلوچ سے کام لیتا ہے یا کسی سے لڑ پڑتا ہے تو ہم اس کو کمزور کہیں اس کو روزے کا تارک نہیں کہیں گے تارک اسے کہتے ہیں جو باوجود طاقت کے روزہ رکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔آخر وہ بیماریاں جو ہمارے اندر ہیں کیا صحابہ کے اندر نہیں تھیں صحابہ میں کیوں ایسی بیماریاں نہیں تھیں۔تم لوگ ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کر دیتے ہو، پھر کھاتے پیتے ہو۔شکار کرتے ہو ، سیر کرتے ہو، کیا صحابہ اور قسم کے انسان تھے اور تم اور قسم کے انسان ہو ؟ ان میں اور تم میں صرف یہ فرق ہے کہ تم بہانے بناتے ہو وہ بہانے نہیں بناتے تھے۔اس لئے اس قسم کے ستشفاء ان میں نظر نہیں آتے۔اسی طرح حج کے متعلق مختلف بہانے بنا دیئے جاتے ہیں ہمیں اس کے متعلق سونیا