خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 358

۳۵۰ اورا 강 وہ ایک آنکھ سے کانا ہو گا۔ اس پر پیر صاحب کے مریدوں نے اس احمدی دوست کو احمدی دوست کو مارنا شروع کر دیا اور اسے خوب پیٹا۔ اس نے پیر صاحب اور اس کے مریدوں کے خلاف نالش کر دی ۔ پیر صاحب بہت گھبرائے ۔ وہ زمانہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کا تھا۔ میں اس وقت کوئی اکیس سال کا تھا اور لاہور گیا ہوا تھا۔ جب میں واپس قادیان جا رہا تھا تو اتفاقا جس کمپارٹمنٹ میں میں بیٹھا تھا اس میں وہ پیر صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے، وہ بڑے جہاندیدہ آدمی تھے۔ انہوں نے کرید کرید کر پتہ لے لیا کہ میں کون ہوں اور جھٹ قلم کا غذ منگوایا اور کہا۔ ایک مرزائی نے کسی شخص پر نا اش کی ہے اور اب دونوں طرف سے جھوٹ بولا جائے گا اور ایمان خراب ہوگا۔ میں ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ فریقین میں سے کوئی اس میں پھنس جائے ۔ اس لئے آپ اس احمدی کو چھٹی لکھ دیں کہ وہ مقدمہ واپس لے لے ۔ میں نے کہا۔ مرزائی تو جھوٹ نہیں بولتے اس لئے ان کا ایمیان خراب نہیں ہوتا اور اگر دوسرے فریق کو علم ہے کہ جھوٹ بولنے سے ایمان خراب ہوتا ہے تو وہ جھوٹ کیوں ہو بولے گا واپس آکر میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو یہ واقعہ سنایا تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھیں خدا تعالے نے موقعہ دیا تھا کہ تم احمدیت کے ایک دشمن کو ممنون احسان کر لیتے لیکن تم نے یہ موقع ضائع کر دیا۔ تمھیں چاہئیے تھا کہ ضرور رقعہ لکھ دیتے ۔ میں نے کہا ۔ مجھے قانون کا علم نہیں تھا، میں نے خیال کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دوست میری اس تحریر کیوں ہے کسی مصیبت میں پھنس جائیں ۔ وہ پیر صاحب یہ بھی کہا کرتے تھے کہ مرزائی حج کو نہیں جاتے اور نہ وہ حج کر سکتے ہیں کیونکہ دجال خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ دیکھ لو مرزا صاحب نے حج نہیں کیا اور نہ ان کے مرید کرتے ہیں ۔ اس بات کا اظہار انہوں نے جس مجلس میں کیا تھا اس میں سرگودھا کے ایک احمدی میٹھے ہوئے تھے جنہوں نے حج کیا ہوا تھا۔ اتفاق سے جب وہ احمدی دوست عرفات میں کھڑے تھے تو وہ پیر صاحب بھی وہیں تھے انہیں جگہ نہیں ملی تھی ۔ پاس ہی کی ایک منڈیر تھی جس پر وہ احمدی دوست کھڑے تھے۔ اس احمدی دوست نے میریان ران پتھروں پر سہارا دے کر بٹھا دیا اور خود نیچے اُتر آئے تھے ۔ جب یہ صاحب نے یہ کہا کہ مرزائی حج نہیں کرتے ، مرزائی دجال ہیں اور دقبال خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہو سکتا تو اس احمدی دوست نے کہا آپ کو تو وہاں جگہ بھی ایک احمدی نے دی تھی ہیں پتھروں کو غرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دشمن جھوٹ کو انتہاء تک لے جاتا ہے ۔ لیکن اس حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا کہ فریضہ حج کو جماعت احمد یہ بھی پوری طرح ادا نہیں کر رہی ۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ باقی مسلمان بھی تو اس کی ادائیگی میں سستی کر رہے ہیں کیونکہ تمہارا یہ دعوی ہے کہ جو نفاس اور بری باتیں مسلمانوں میں پیدا ہوگئی تھیں ۔ ہم انہیں مٹانے آئے ہیں ، اس میں کوئی شبہ نہیں