خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 357

۳۵۷ بھی گھٹانا پڑتا ہے اور در حقیقت حج پر جانے والوں میں سے صرف تین فیصدی وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر حج فرض ہوتا ہے ۔ باقی لوگ جو حج کے لئے جاتے ہیں ان پر حج فرض نہیں ہوتا ۔ وہ عام عاشق ہوتے ہوتے ہیں جن کے پاؤں میں کانٹے چبھ رہے ہوتے ہیں لیکن وہ ان کی پر واہ نہ کرتے ہوئے محض عشق کی وجہ سے جا رہے ہوتے ہیں وہ حج کا فریضہ ادا کرنے نہیں جاتے وہ عشق کی آواز پر لبیک کہہ رہے ہوتے ہیں۔ پس یہ عید اس لئے آتی ہے تا ہمارے دلوں کو بیدار کرے اور ہمیں ہمارا فرض یاد دلائے۔ عید ہمیں یہ بتانے آتی ہے کہ حج کی عبادت تم پر بھی فرض ہے جس طرح نماز ایک ضروری فریضہ ہے۔ جس طرح زکوۃ ایک ضروری فریضہ ہے۔ جس طرح روزے ایک ضروری فریضہ ہیں ، اسی طرح حج بھی ایک ضروری فریضہ ہے لیکن افسوس کہ نہ غیر احمد یوں حمدیوں میں اس فریضہ کا صیحیح احساس پایا جاتا ہے اور نہ احمدیوں کو اس کا پورا احساس ہے۔ غیر احمدیوں میں تو یہ لطیفہ ہوتا ہے ان کے خطوط آتے ہیں که اگر حضرت مرزا صاحب مسلمان تھے تو انہوں نے حج کیوں نہیں کیا۔ پھر ان کے پہلے خلیفہ نے بھی حج نہیں کیا اور آپ نے بھی حج نہیں کیا ۔ حالا نہیں کیا۔ حالانکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے نہ الاول نے نہ صرف حج کیا تھا بلکہ دو سال کے قریب آپ مکہ مکرمہ میں رہتے ہیں اور میں نے بھی حج کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و والسلام السلام کی کی صحت اس قابل نہیں تھی کہ آپ سفر کرتے پھر آپ کے لئے راستہ میں امین نہیں تھا۔ اس لئے آپ نے حج نہیں کیا لیکن آپ کی طرف سے ہم نے حج بدل کروادیا تھا۔ گویا غلو میں دشمنوں نے کمال کر دیا ہے سیالکوٹ میں ایک بڑے پیر تھے۔ انہوں نے ایک دفعہ تقریر کی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنے رنگ میں پیش کرتے تھے ۔ انہوں نے تقریر میں کہا۔ دیکھو مرزائی اپنی سچائی کے ثبوت میں بڑے بڑے دلائل دیتے ہیں اور علماء ہیں بخشیں ہوتی ہیں ۔ یہ تو مولویوں الی باتیں ہیں میں روحانی آدمی ہوں ۔ میں تمھیں موٹی دلیل دنیا ہوں جس سے پتہ لگ جائے گا کہ مرزائی اپنے دعوئی میں سچے نہیں اور وہ دلیل یہ ہے کہ مرزا صاحب چونکہ دخیال ہیں جو شخص مرزائی ہوتا ہے وہ مرتد اور سخت بے ایمان ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اس کا رنگ کا لا کر دیتا ہے تم کوئی مرزائی دیکھ لو اس کا رنگ کالا ہوگا۔ اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ خدا تعالے کی لعنت ان پر پڑتی ہے۔ پیر صاحب کی ایک آنکھ میں نقص تھا اور مجلس میں ایک احمدی مدرس بھی بیٹھے تھے انہیں غصہ آگیا ۔ ان کا رنگ بہت سفید تھا۔ پیر صاحب سے بھی زیادہ جن کا رنگ بھی سفید تھا مگر اس احمدی کے برابر نہیں وہ احمدی مدرس کھڑے ہوئے اور کہا۔ میں ایک احمدی ہوں۔ آپ اپنے مریدوں سے پوچھ لیں کہ میں زیادہ گورا ہوں یا آپ زیادہ گورے ہیں ۔ پھر آپ حضرت مسیح موجود عليه الصلوة و السلام کو اقبال کہتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام تو اب دنیا میں موجود نہیں لیکن آپ ایک آنکھ سے کانے ہیں اور دجال کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ