خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 28

۲۸ بڑھے دنیا کو فتح کر لو ر فتح کر لوں ۔ اور اس دن دین مسلمانوں کی فوج کی تعداد بارہ ہزار تھی جن میں کفار اور اور نئے مسلمان شدہ بھی شامل تھے۔ تھے۔ اس لئے ان میں سے بعض نے کہا کہ آج دیکھیں گے کہ کون ہمار مقابلہ میں ٹھر سکتا ہے۔ مدینہ والوں کو چونکہ وہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ بہادر اور جنگجو سمجھتے تھے اس لئے ان میں تکبیر سیدا ہو گیا ہے مگر جب وہ آگے تو دشمنوں نے اس ترکیب سے پے در پے تیر برسائے کہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے پاؤں اکھڑ گئے اور بھا گئے پر مجبور ہوئے ان کے گھوڑے پرک کر پیچھے کو بھا گئے اور سارے لشکر نہیں بھا گڑ مچ گئی۔ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے تو صحابہ نے روکا مگر آپ نہ رکے۔ آپ کے ایک چچازاد بھائی نے آپ کے گھوڑے کو آگے کیا۔ اُسی وقت آپ نے عباسی کو حکم دیا کہ بند آواز سے کہو کہ اسے انصار اللہ کا رسول تمھیں وعدہ یاد دلاتا ہے اس کو پورا کرو۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ اس وقت معلوم نہیں گھوڑوں کو کیا ہو گیا تھا ان کی ایسی حالت تھی کہ ہم ان کے لگام کھینچتے اور اس قدر کھینچتے کہ ان کا سر دم تک پیچھے آجاتا ۔ مگر وہ واپس نہ لوٹتے اور لگام نام کا کھینچے کھینچ کر ہمارے ہاتھوں سے لو نکل آیا۔ مگر جب ہم نے عباس کی آواز سنی تو ایسا معلوم کر لہو مورجب نے کی ایسا ہوا کہ گویا صور پھونکا گیا ہے اس وقت ہم نے گھوڑوں کو واپس موڑنے کے لئے بڑی کوشش کی اور جو نہ مڑتے ان کی تلوار سے گردن کاٹ کر ہم پیدل واپس لوٹ آئے ہے تو ایسے وفادار اور جاں نثار آپ کے صحابہ تھے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ إِني مَكَاثِرُ بِكُمُ الأمم میں اپنی امت کی کثرت پر قیامت کے دن فخر کروں گا تو ہر وہ چیز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی کثیر ہی دی گئی اور ہر رنگ میں خدا تعالے نے آپ کو کوثر دی لیکن اس کوثر کے ماتحت دو معنی خاص طور پر ہیں ایک تو وہ جو رسول کریم میلے اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں کہ مجھے ایک نہر دی گئی ہے جس کا نام کو شیر ہے ۔ دوسرے وہ ہے ہے۔ جو لغت میں آئے ہیں۔ لغت میں کوثر کے معنے ہیں الرجل کثیر العطاء ایسا آدمی جو بڑا سخی ہوا اور بس کو سب طرح کی خیر ملی ہو ۔ تو اس کے وسیع معنے تو یہ ہوئے کہ ہم نے تجھے خیر کثیر دی ہے۔ اور اس کے ماتحت جنت والی نہر بھی آجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ آپ کو ایک ایسا بیٹا اور انسان دیا گیا جو بڑا سخی ہے۔ بہت سی حدیثوں میں آیا ہے کہ کفار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہتر کیا اور ان کے اس اعتراض پر یہ سورۃ نازل ہوئی ۔ اب اگر اس سورۃ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بیٹے کی بشارت نہیں دی گئی تو پھر اس کے معنی ہی نعوذ بالله لغو ہو جاتے ہیں اور الٹا اعتراض ہوتا ہے کہ کہا تو یہ گیا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ مگر جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس کو ایک نہر