خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 351

ام فرموده یکم ستمبر شاه بقام ربوه یہ ہمارے اسلامی سال کی دوسری عید ہے اور آج وہ مبارک دن ہے جب نمدا تعالے کے بند سے جو لاکھوں کی تعداد میں مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں جج کر کے واپس لوٹ آئے ہیں۔آج ان میں سے بہت سے لوگ منی سے سواریوں پہ جلدی جلدی مکہ مکرمہ کی طرف آرہے ہیں تا کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور طواف کے بعد وہ د بریا تین دن منی میں تھہریں گے اور اس کے بعد میچ ختم و جائے گا۔یہ عید تو عید الا ضحیہ کہلاتی ہے جج کے ساتھ وابستہ ہے۔اس عید کا ایک تعلق تو تاریخی لحاظ سے اس قربانی سے ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے کی کی اور دوسہ التعلق اس کا حج کے ساتھ ہے کہ ان ایام میں لاکھوں لاکھ مسلمانوں کو حج کے لئے جمع ہونے کا موقع ملتا ہے۔گویا ہم سارے کے سارے مسلمان اس خوشی میں عید مناتے ہیں کہ ہمارے کچھ بائیں کو حج کا موقعہ مل گیا۔اس عید کا وہ پہلو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے میں ہمیشہ بیان کرتا آیا ہوں۔آج یکی اختصار کے ساتھ اس تعلق کو لیتا ہوں کہ یہ عید اس بات کی خوشی میں کہ ہمارے بعض بھائیوں کو حج کا موقعہ نصیب ہوا ہے۔ہماری یہ عید اس خوشی میں ہے کر مسلمان ابھی مرکز وحدت یہ قائم ہیں۔ہماری یہ عید اس خوشی میں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی زندگی کا ثبوت پیش کرنے کے لئے لاکھوں مسلمان آج مکہ مکرمہ میں جمع ہیں۔ہماری یہ عید اس خوشی میں ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے نمائند ے دین کے مرکز مکہ مکرمہ میں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ وہ خدا تعالے کی عبادت کریں اور اس کے نام کو بلند کریں۔یہ وہ باتیں ہیں جو اس عید کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔شاید بسا اوقات یہ باتیں عید منانے والوں کے دلوں سے غائب ہوتی ہیں۔عید کے دن کو دیکھے لو۔ہزاروں آدمی چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ وہ عید منائیں۔ابھی ربوہ کیا چیز ہے ایک نئی آباد ہوئے والی چھوٹی سی بستی ہے اس میں بھی ہزاروں آدمی عید کے لئے جمع ہیں۔اور ان کی خواہش کی انتہاء کا اس بات سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت سینکڑوں عورتیں اور بچے اس قدر شور کر رہے ہیں کہ لوگ خطبہ بھی نہیں سن سکتے۔گویا عید کیا ہے ایک نشہ ہے جو دماغوں پر طاری ہے ایک مستی ہے جو انسانوں پر چھائی ہوئی ہے۔عید آگئی عید آگئی۔اے کیا چیز آگئی ہے دیکھنے والے کو