خطبات محمود (جلد 2) — Page 351
ادم اسم ۶۱۹۵۲ فرموده یکم ستمبر وه بمقام ربوه یہ ہمارے اسلامی سال کی دوسری عید ہے اور آج وہ مبارک دن ہے جب خدا تعالے کے بندے جو لاکھوں کی تعداد میں مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں حج کر کے واپس لوٹ آئے ہیں ۔ آج ان میں سے بہت سے لوگ منی سے سواریوں پہ جلدی جلدی مکہ مکرمہ کی طرف آرہے ہیں تا کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور طواف کے بعد وہ دو یا تین دن منی میں ٹھہریں گے اور اس کے بعد جو ختم ہو جائے گا۔ یہ عید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے حج کے ساتھ وابستہ ہے ۔ اس عید کا ایک تعلق تو تاریخی لحاظ سے اس قربانی سے ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے کی کی اور دوسه اتعلق اس کا حج کے ساتھ ہے کہ ان ایام میں لاکھوں لاکھ مسلمانوں کو حج کے لئے جمع ہونے کا موقع ملتا ہے۔ گویا ہم سارے کے سارے مسلمان اس خوشی میں عید مناتے ہیں کہ ہمارے سے کچھ بھائیوں کو حج کا موقعہ مل گیا۔ اس عید کا وہ پہلو جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قو ام کی عظیم الشان قربانی کے ساتھ تعلق رکھتا ۔ ہے میں ہمیشہ بیان کرتا آیا ہوں ۔ آج میں اختصار کے ساتھ اس تعلق کو لیتا ہوں کہ یہ عید اس بات کی خوشی میں کہ ہمارے بعض بھائیوں کو حج کا موقعہ نصیب ہوا ہے ۔ ہماری یہ عید اس خوشی میں ہے کہ مسلمان ابھی مرکز وحدت پر قائم ہیں۔ ہماری یہ عید اس خوشی میں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لائے ہوئے دین کی زندگی کا ثبوت پیش کرنے کے لئے لاکھوں مسلمان آج مکہ مکرمہ میں جمع ہیں۔ ہماری یہ عید اس خوشی میں ہے کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے نمائندے دین کے مرکز مکہ مکرمہ میں اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ وہ خدا تعالے کی عبادت کریں اور اس کے نام کو بلند کریں ۔ یہ وہ باتیں ہیں جو اس عید کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ شاید بسا اوقات یہ باتیں عید منانے والوں کے دلوں سے نائب ہوتی ہیں ۔ عید کے دن کو دیکھ لو ۔ ہزاروں آدمی چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ وہ عید منائیں ۔ ابھی ربوہ کیا چیز ہے ایک نئی آباد ہوئے والی چھوٹی سی بستی ہے اس میں بھی ہزاروں آدمی عید کے لئے جمع ہیں۔ اور ان کی خواہش ے اور کی انتہاء کا اس بات سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت سینکڑوں عورتیں اور بچے اس قدر شور کر رہے ہیں کہ لوگ خطبہ بھی نہیں سن سکتے ۔ گویا عید کیا ہے ایک نشہ ہے جو دماغوں پر طاری ہے ایک مستی ہے جو انسانوں پر چھائی ہوئی ہے۔ عید آگئی سعید آگئی ہے کیا چیز آگئی ہے دیکھنے والے کو