خطبات محمود (جلد 2) — Page 348
رم کی طرح قربان ہونے کی توفیق عطا فرما لیکن جب قربان ہونے کا وقت آئے تو پیچھے بھاگ جاؤ۔اگر قتم ایسا کرتے ہو تو نہاری مثال اس عورت کی سی ہے جس کے متعلق لطیفہ مشہور ہے کہ اس کی بیٹی کو جس کا نام جمتی تھا دق اور سیل ہو گئی۔وہ ہمیشہ یہ دعا کیا کر تی تھی کہ اسے خدا انہیں مرجاؤں میکن میری بیٹی بچ جائے۔جب عزرائیل اس کی جان نکالنے آئے تو اس کی سجائے میری جان تعمال ہے۔اس عورت نے ایک گانے رکھی ہوئی تھی۔ایک رات کو اس کا رستہ ٹوٹ گیا و صحن میں گھس آئی۔وہاں ایک گھڑا پڑا تھا گائے نے بھوسہ کھانے کے لئے اس میں اپنا منہ ڈال لیا گھڑے کا منہ تنگ تھا لیکن بوجہ دباؤ اس کا سر گھڑے میں پڑ گیا۔مگر جب اس سے سر نکالنا چاہا تو وہ نہ نکلا۔گائے گھبرائی اور صحن میں اس نے ناچنا شروع کر دیا۔وہ عورت یہ خیال کرتی تھی کہ وہ رائیل کی شکل ندالی ہو گی۔جب اس گائے کو گھڑا اُٹھائے ناچتے دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ یہ عزرائیل ہے جو مہنتی کی جان نکالنے آیا ہے۔وہ پہلے تو یہ دعا کیا کرتی تھی کہ یا اللہ ! میں مرحبا کویں جمتی نہ مرے اور جب عزرائیل آئے تو میری جان نکال لے جہتی کی جان نہ نکالے لیکن جب اس کے خیال میں عزرائیل جان نکالنے آیا تو وہ سب دعائیں بھول گئی اور کہنے لگی ملک الموت من نه جهتی ام من یکے پیر زال مفتی ام یعنی جو عورت پہلے یہ دعا کر رہی تھی کہ عزرائیل میری لڑکی کی سجائے میری جان نکال ہے۔وہی جب وقت آیا تو کہنے لگی میں نہتی یعنی لڑکی کی والدہ نہیں ایک اور مزدور عورت ہوں۔یہی مثال اس شخص کی ہے جو درود پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا تعالے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بیٹے قربان کرنے کے مواقع بار بار دے۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو تو ایک دفعہ بیٹا قربان کرنے کا موقع ملا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بار بار بیٹا قربان کرنے کا موقعہ ملے۔پھر اسمعیل علیہ اسلام کو تو ایک دفعہ قربان ہونے کا موقعہ ملا تھا۔لیکن تم دعا کرتے ہو کہ اسے خدا ہمیں بار بار قربان ہونے کا موقعہ دے۔لیکن جب قربان ہونے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں ملک الموت من نہ مستی ام - من یکے پیر زال محنتی ام - یہ چیز ہے جو عید الا ضحیہ یاد کرانے کے لئے آتی ہے۔گویا درود کی تشریح عید الاضحیہ ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ ہم خدا تعالے کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور جب تم ہمیشہ یہ اقرار کرتے ہو تو اب اپنی جانیں قربان کرو ہم بھی تمہاری بھی عید الاضحیہ آئیگی کہ نہیں ؟ الفضل ، اکتوبر وار)