خطبات محمود (جلد 2) — Page 340
۳۲۰ سے مبع لڑنے والوں میں سے 20 کی نعشیں میدان میں ملیں اور ایک کی نہ ملے اور وہ بھاگ جاتے تو یہ بھی ہماری ذلت ہے ۔ مومن کے معنے ہی یہ ہیں کہ وہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا۔ اگر احراری حمدیوں کو مارتے ہیں تو صرف اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ریزہ ولیوشن پاس کو سیکی عادت ہو گئی ہے ۔ یہ ریزولیوشن پاس کریں گے اور بیٹھ جائیں گے ۔ جہانتک قانون شکنی کا سوال ہے۔ احمدیت اس سے رو سے روکتی ہے ۔ لیکن کیا تم سمجھتے ہو کہ جہاں اسلام ا ہو کہ جہاں اسلام اور احمدیت نے قانون شکنی منع کیا ہے وہاں اس نے اس کا کوئی علاج نہیں بتایا ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ انگریزیہ آدھی دنیا پر حاکم تھے۔ جب پہلی جنگ ہوئی تو ان کی طاقت پوری طرح قائم تھے قائم تھی لیکن انہوں نے قاریان کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے تھے ۔ ہم نے قانون شکتی نہیں کی تھی صرف الہی تدبیر سے کام کیا تھا لیکن حکومت کو پارلیمینٹ میں اعلان کرنا پڑا کہ ہمیں احمدیوں کے احمدیوں کے متعلق کوئی شبہ نہیں کتنا تلخ گذرا ہو گا یہ محہ اس گورنر پریس نے حکم دیا تھا کہ تم سے نقص امن کا خطرہ ہے۔ اس لئے فلاں دفعہ کے ماتحت تمہیں یہ نوٹس دیا جاتا ہے۔ اسے پارلیمنٹ کے سامنے بیان دینے کے لئے یہ ماننا پڑا کہ جماعت احمدیہ نہایت وفادار جماعت ہے۔ کتنے تلخ گھونٹ تھے جو اسے پینے پڑے مگر نہ ہم نے کسی کو مارا تھا نہ پیٹا تھا اور نہ قانون شکنی کی تھی ۔ صرف جماعت میں اس وقت اراده عمل تھا اور نظر آتا تھا کہ جماعت میں عمل کی قوت موجود ہے ۔ اس وقت میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں وہ قوت عمل نہیں پائی جاتی جو اس وقت پائی جانی تھی ۔ اس لئے میں چپ ہوں ۔ جب میں لفضل میں ریزولیوشن پڑھتا ہوں تو ہنستا ہوں کہ یہ غم دفعہ کی لہر کہاں سے آگئی جو الفضل کے ایڈیٹر کو نظر آگئی ہے ۔ مان لیا کہ میری جسمانی نظر کمزور ہے اور میں عینک استعمال کرتا ہوں لیکن میری باطنی آنکھیں تو ان سے تیز ہیں مگر مجھے وہ غم و غصہ کی لہر نظر نہیں آتی۔ پھر غم کی ہر تو جائزہ ہے کہ غصہ کی لہر اسلام میں بالکل جا اہر اسلام میں بالکل جائز نہیں ہے۔ مسلمان پر غصہ کی لہر نہیں آسکتی۔ غصہ کے معنے ہیں اس قدر غیظ ہونا کہ انسان کی کی عقل ماری جائے اور اس کا گلا گھٹنے لگ جائے ۔ لیکن غضب جائز ہے ، خدا تعالے غضب کرتا ہے لیکن اسے غصہ نہیں آتا۔ کیونکہ جسے غصہ آتا ہے اس کی جان تنگ ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے آر اپنے آپ کو مارنے پر تیار ہو جاتا ہے اور یہ چیز اسلام میں جائز نہیں ۔ لیکن یہاں تو غم کی لہر بھی نظر نہیں آتی جیسے وہ پہلے تھے ویسے ہی اب ہیں سیدھی بات ہے کہ اس وقت میں نے ، ۲ ہزار روپیا نگا تھا اور ایک لاکھ سات ہزار روپیہ کے وعد سے آگئے تھے ۔ اب یہ حال ہے کہ دو لاکھ چالیس ہر آ کے وعدوں میں سے نو ماہ میں صرف ایک لاکھ بیس ہزار کی رقم وصول ہوئی ہے۔ لیکن پہلے ایک لاکھ سات ہزار کے وعدوں میں سے سال میں ایک لاکھ دس ہزار روپیہ وصول ہو گیا تھا ۔ یہ