خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 336

۳۳۶ ۴۰ ر فرموده ۱۳ ار ستمبر 1901 بہت بمقام کربوه) آج میرا ارادہ تھا کہ ایک خاص مضمون کے متعلق خطبہ پڑھوں ۔ عام طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ میں بغیر کسی خیال کے خطبہ کے لئے آجاتا ہوں بعض دفعہ شاید ۵۰۴۰ یا سو میں سے ایک دفعہ خطبہ کے لئے آنے سے پہلے بھی مضمون ذہن میں آجاتا ہے اور کبھی کبھی اس بات کے لئے فکر کیا جاتا ہے کہ آجکل کے اہم مسائل میں سے کونسا مسئلہ خطبہ میں بیان کیا جائے۔ کل شام مجھے خیال آیا کہ عید الاضحیہ کا تعلق جو درود سے ہے اس پر عید کا خطبہ پڑھا جائے۔ چنانچہ اس بارہ میں کچھ سوچتا بھی رہا۔ رات کوئیں نے ایک رویا دیکھا، میں نے دیکھا کہ میں کہیں سے آرہا ہوں وہ بازار ہے یا گلی ہے جہاں میں جا رہا ہوں میں نے اس کے پہلو میں ایک مکان دیکھا جہاں میں جانا چاہتا ہوں معین صورت میں مجھے یا د نہیں کہ میں اس مکان میں کیوں جانا چاہتا ہوں ۔ اس مکان کا جو دروازہ ہے وہ گلی یا بازار میں ذرا اونچا کر کے لگایا گیا ہے۔ وہ قریباً تین فٹ بازار یا گلی سے اونچا ہے ۔ خواب میں مجھے یہ احساس ہے کہ میرے گھٹنے میں تکلیف ہو رہی ہے ، میں نے سہارا لیکر پتھر پر پاؤں رکھا۔ ہے۔ آگے ایک کھلا میدان ہے اس کھلے میدان میں میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام ایک چارپائی پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آپ کی زیارت ایک عرصہ کے بعد اس خواب کے وریعہ ہوئی، آپ نے داڑھی پر خضاب لگایا ہوا ہے وہی خضاب جو آپ سے منقول ہے لیے اور میں بھی وہی لگاتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اس میں مہندی ذرا زیادہ ملایا کرتے تھے لیکن ہیں ذرا کم مهندسی ندی ملاتا ہوں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام وۃ و السلام کے بالوں پر ذرا سرخی رہ جاتی تھی ، دیسی سُرخی جیسے وفات کے قریب جب آپ خضاب کا عاب لگاتے تھے تو بالوں پر دکھائی دیتی تھی۔ اس خطبہ کو الفضل میں اشاعت کے لئے بھجواتے وقت حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے یہ نوٹ رقم فرمایا۔ جو اس خطبہ کی ابتداء میں درج ہے کہ خطبہ نہایت لطیف اور اور ضروری ضروری تھا نگر خطبہ لکھنے والے ظالم نے اسے اس اس قدر قدر مسخ کیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ اس طرح کی خلاف عقل باتیں لکھی ہیں کہ شبہ ہوتا ہے کہ وہ سکھتے ہوئے اپنے جو اس میں تھا یا نہیں۔ ہر حالی تکلیف اٹھا کر جی قدر اصلاح کر سکا ہوں کر کے چھپوانے کے لئے بھیجو آتا ہوں۔ (مرتب)