خطبات محمود (جلد 2) — Page 334
۳۳۴ حصہ لله ت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو خدا تعالے نے سلطان القلم قرار دیا تھا۔ اس کے مقابلہ میں اس نے مجھے اتنا بولنے کا موقع دیا کہ مجھے اس نے سلطان البیان بنا دیا۔ مگر نہ مسلم نے تمھیں کوئی فائدہ دیا اور نہ بیان نے تمھیں کوئی فائدہ دیا۔ مسلم نے لکھا اور اتنا لکھا کہ سو کتاب بن گئی مگر اس کثرت نے بھی تمہارے لئے صرف اتنا ماحول پیدا کیا کہ ہے شد یه یشان خواب من از کثرت تعبیر بالله کتابوں کی کثرت نے تمھیں مسلم سے بالکل غافل کر دیا اور سیکھنا نہ لکھنا تمہارے لئے مساوی ہو گئے۔ ہیں نے اپنی تقریریں کیں اور اپنے لیکچر دیئے کہ شاید دنیا میں اس کی بہت ہی کم مثال ملے گی لیکن میری تقریریں اور میرے بیانات بھی کچھ نہ کہنے کے مساوی ہو گئے گویا تم میں سے بعض کی وہی حیات است ہو گئی ۔ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ بها دونوں باتیں تمہارے لئے برابر ہو گئیں ۔ ڈرانا بھی اور نہ ڈرانا بھی تمہارے لئے قلم بھی برابر ہو گئی اور بیان بھی برابر ہو گیا۔ مسلم نے لکھا اور اتنا لکھا کہ تم نے کہدیا کہ مسلم نے تو اب اتنا لکھ دیا ہے کہ ہم سے سے پڑھا ہی نہیں جاتا۔ اور زبان نے اتنا بیان کیا اتنا بیان کیا کہ تم نے کہدیا ہم اب کسی کسی بات کو یاد رکھیں۔ ہم سے تو عمل ہی نہیں ہو سکتا ۔ پیس دونوں باتیں تمہارے لئے برابر ہو گئیں۔ یہ بڑے فکر کی بات ہے، یہ بڑے خطرہ کی بات ہے کئی ایسے ہوتے ہیں جو ایک بات سنتے ہیں اور نجات پا جاتے ہیں، وہ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں ۔ اور کئی ایسے ہوتے ہیں جو بار بار سنتے ہیں اور نجات پا جا ات پا جاتے ہیں ، وہ بھی خو بھی خوش قسمت ہوتے ہیں۔ مگر وہ جن کے لئے اتنا لکھا گیا جس کی حد نہیں اور جن کے لئے اتنا کہا گیا جس کی حد نہیں اور پھر بھی ان میں تبدیلی پیدا نہ ہوئی ماوه خوش قسمت نہیں کہلا سکتے ۔ دوسرا لفظ میں نہیں بولتا، اس لئے کہ میری زبان پر وہ گراں گذرتا ہے ۔ بہر حال ابھی وقت ہے اپنے اندر تغیر پیدا کرو۔ زمانہ کے حالات بتا رہے ہیں کہ خدا کچھ کرنا چاہتا ہے۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرو تا کہ جب خدائی تقدیر ظاہر ہو تو وہ تمہارے حق میں فیصلہ کرے ۔ اگر تم اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کر لو تو دنیا تمھیں تباہ نہیں کر سکتی سمندر میں تلاطم آئے گا اس کی موجیں اٹھیں گی اور لوگ سمجھیں گے کہ تم تباہ ہو گئے ۔ مگر جب طوفان میں سکون پیدا ہو گا تو دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گی کہ تم سلامتی کے ساتھ کنارے پر کھڑے ہو اور لوگ تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکے ۔ ر الفضل و رمٹی تله)