خطبات محمود (جلد 2) — Page 26
۲۶ رم مگر حدیثوں میں یہ بھی آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کوثر ایک نہ ہے جو جنت میں ہے اور مجھے دی گئی ہے اور یہ کوئی ص اور یہ کوئی ضعیف و کمزور حدیثیں نہیں ہیں بلکہ صحیحین میں ہیں کیے اور قابلِ قبول ہیں لیکن ان میں جو کچھ بیاد کیا گیا ہے گیا ہے اس کے متعلق سعید ابن جبیر نے اس طرح فیصلہ کر دیا ہے کہ جب اس نے کوثر کے معنی خیر کثیر لوگوں کے سامنے پیش کئے اور انہوں نے کہا کہ اس کے معنی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہر کے کئے ہیں۔ ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ کیا حوض کوثر خیر نہیں ہے یا کیا وہ شر ہے ۔ اس پر سب خاموش ہو گئے تو بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے جو کوثر کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ وہ حیات میں ایک نہر ہے ۔ اس کے بڑے بڑے فوائد ہیں۔ اس سے پانی کی بہت اعلیٰ درجے کی لذت ہے۔ پیج لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوثر سے مراد وہی نہر ہے اور اور کچھ کچھ نہیں نہیں۔ ہے ۔ کیونکہ عبداللہ بن عباس جن کے تفقہ فی الدین کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وسلم نے دعا کی تھی ۔ چنانچہ آپ کو ایسا علم قرآن عطا بھی ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں سب سے آگے بٹھاتے تھے اس پر بعض صحابہ کو اعتراض پیدا ہوا کہ عباس کے بیٹے کو تو آگے بٹھایا جاتا ہے۔ ہمارے بیٹوں کو کیوں نہیں بٹھایا جاتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کسی وقت میں تمھیں بتاؤں گا کہ عباس کے بیٹے کو کیوں آگے بٹھایا جاتا ہے اور اوروں کے بیٹوں کو کیوں نہیں بٹھایا جاتا ۔ ایک دن جب بہت لوگ جمع تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحِ کا مطلب بتاؤ رب نے بتایا کہ اس میں اسلام کی ترقی اور فتوحات کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ تو الفاظ سے ہی ظاہر ہے کچھ اور بتاؤ مگر کسی نے کچھ نہ بتایا ۔ اس پر آپ نے ابن عباس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دی گئی ہے۔ پر شنکر سب نے مان لیا کہ واقعی ابن عبا لیا کہ واقعی ابن عباس اس قابل ہے کہ اسے آگے بٹھایا جائے ہے تو انہوں له نے کوثر کے یہی معنے کئے ہیں ۔ پھر حسن بصری رضی اللہ عنہ جو بہ ری رضی اللہ عنہ جو بہت اعلیٰ درجہ کے بزرگ اور پارسا گزرے ہیں انہوں نے بھی خیر کثیری معنے کئے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس لفظ کوثر کے معنوں میں وہ نر بھی شامل ہے جس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے لیکن اور بھی جس قدر خیر کی چیزیں ہیں وہ سب اس کے معنوی میں داخل ہیں ۔ پھر بہت سے تابعین جو قرآن کریم کے مفتر گزرے ہیں انہوں نے یہی معنے گئے ہیں اللہ اس سورۃ میں لفظ کو ثر رکھ کر خدا تعالے نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم نے تجھے خیر کثیر دیا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ اس کا نمونہ کسی اور جگہ نہیں پایا جاتا ۔ دیکھو کہ اب ملی تو وہ کہ جس کا نمونہ تمام دنیا میں نہیں مل سکتا۔