خطبات محمود (جلد 2) — Page 329
۳۲۹ اب دوست چلے ت چلے جائیں۔اس پر کچھے چلے جاتے اور کچھے بیٹھے رہتے۔تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد آپ پھر تنگ اگر فرماتے کہ دوست چلے جائیں مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔اس پر پھر کچھ لوگ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔آخر تیسری دفعہ آپ فرماتے کہ اب چوہدری بھی چلے جائیں کہ یعنی جو ہر دفعہ میرے کہنے کے یہ معنے لیتے ہیں کہ یہ حکم دوسروں کے لئے ہے ، ہمارے لئے نہیں ہے ، وہ بھی تشریف لیجائیں اسی طرح یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مسجد میں جمعہ پڑھنے کا حکم ہمارے لئے نہیں دوسروں کے لئے ہے حالانکہ اللہ تعالے کے حکم ساروں کے لئے ہوتے ہیں۔ان احکام پر عمل کرنے کے لحاظ سے ایک بادشاہ - بھی برا یہی ہے اور ایک چوڑھا بھی ، ایک بنی بھی برابر ہے اور ایک عام مسلمان بھی جو خدا تعالے کے احکام ہوتے ہیں وہ سب کے لئے یکساں ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو بعض دفعہ آپ اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے شی جب آپ کی عمر بڑی ہوگئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ دیکھ کر تکلیف پہنچی۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ اپنی جان کو اتنا دکھ میں کیوں ڈالتے ہیں۔کیا خدا تعالے نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ کے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عائشہ جب خدا تعالے نے یہ بات میرے متعلق فرمائی ہے اور اس نے مجھ پر اتنا بڑا احسان فرمایا ہے کہ میرے اگلے پچھلے سب گناہ اس نے معاف کر دیتے ہیں تو کیا اس احسان کے بدلہ میں میرے لئے ضروری نہیں کہ میں پہلے سے بھی زیادہ عبادت کر دوں۔اب دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تو اس کے یہ معنے لئے کہ آپ کو عبادت کم کرنی چاہئیے۔لیکن آپ نے اس کے یہ معنے لئے کہ مجھے پہلے سے زیادہ عبادت کرنی چاہیئے۔کیونکہ اس نے مجھ پر احسان کیا ہے۔یہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا چھوٹی عمر کی تھیں اور دین کی معرفت ان میں کم تھی۔پھر حضرت عائشہ نے بھی وہی بات کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی تھی۔ایک وقت آیا جب ان کی معرفت بھی تیز ہوگئی۔اور انہوں نے بالکل وہی طریقہ اختیار کیا جو رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔صحابہ کا دستور تھا کہ وہ حضرت عائشہ کو دین کی خاص واقف اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاص بیویوں میں سے سمجھ کر اکثر تحائف وغیرہ بھیجا کرتے تھے۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ جو کچھ روپیہ وغیرہ آتا اس کا اکثر حصہ صدقہ کر دیتیں۔حضرت زبیر کے چھوٹے بچے عبید اللہ نے جب یہ بات دیکھی تو چونکہ وہ آپ کے بھانجے تھے۔انہیں خیال آیا کہ اگر خالہ نے اسی طرح اپنا تمام مال تقسیم کر دیا تو باقی رشتہ داری اور قریبوں کو کچھ نہیں ملے گا۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ کر دیا کہ لوگو تم عائشہ کو اس اسرا نے