خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 328

۳۲۰ میں میں الگ جمعہ ہوتا رہا اور مسجد اقصے میں الگ مسجد اقصے میں وہ لوگ جو اس مسجد کے ارد گرد رہتے تھے اور وہ لوگ جن کے علاقہ میں طاعون پھیلی ہوئی تھی اکٹھے ہو جاتے تھے۔ اور مسجد مبارک وہ لوگ جمع ہو جاتے تھے جو طاعون سے محفوظ تھے۔ پس یہ شریعت کا حکم تھا جہ حکم تھا جس کے ماتحت جس دو جمعے ہوتے تھے کسی بندے نے یہ حکم نہیں بنایا تھا ۔ لیکن رتن با ارتن باغ میں جمعہ کی نماز الگ ز الگ پڑھنا بندوں کی خالص اپنی ایجاد ہے۔ میں ربوہ میں سن سنگر سمجھتا تھا کہ شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہو مگر یہاں آکر معلوم ہوا کہ یہ بات درست ہے ۔ یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے قرآن کریم میں چند لوگوں کے متعلق ذکر آتا ہے کہ انہوں نے اپنی ایک علیحدہ مسجد بنائی تھی ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ اس مسجد کو گرا کر مزیلہ لینے میلے کے ڈھیر بنا دیا جائے کہ جیسے ہمارے ہاں روڑی کہتے ہیں۔ چنانچہ صحابہ نے ایسا ہی کیا ۔ انہوں ۔ یسا ہی کیا۔ انہوں نے مسجد گرادی اور وہاں روڑی کا ڈھیر بنا دیا جہاں لوگ گند پھینکا کرتے تھے یہ پس یہ نہایت ہی مکروہ اور ناپسندیدہ بات ہے اور دین میں تفرقہ اور انشقاق پیدا کرنے والی چیز ہے۔ میں حیران ہوں کہ باقی جماعت کے لوگوں نے اس کے خلاف کیوں احتجاج نہ کیا بیاں ہمارے مولوی صاحب جو مقامی مبلغ ہیں رہتے ہیں ، مولوی کے معنے ہوتے ہیں ایسا شخص جو شریعت کے مسائل جانتا ہو۔ انہیں سختی سے اس بات کا اظہار کرنا چاہیئے تھا کہ یہ جائز نہیں ، تم مسجد میں آؤا اور سب کے ساتھ مل کر جمعہ کی نماز ادا کرو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جیل روڈ اور بھائی درازہ کہ آدمی تو مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لئے جائیں اور رتن باغ جو بالکل قریب ہے وہاں کے لوگ الگ نماز پڑھا کریں ۔ آئندہ جولیا جو یہاں کی مبلغ ہیں انہیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا کام صرف اتنا ہی نہیں کہ خطیبہ پڑھا دیا یا کسی نے کوئی مسئلہ پوچھا تو وہ بتلا دیا ۔ بلکہ تعلیم و تربیت بھی ان کا کام ہے جب وہ دیکھیں کہ کوئی کام دین کے خلاف ہو رہا ہے تو ان کا فرض ہے کہ اس سے کے لوگوں کو روکیں ۔ اور اگر لوگ پھر بھی نہ رکیں، خلیفہ وقت کے پاس رپورٹ کی جائے۔ ایک زمانہ ایسا گزرا ہے کہ یہاں لاہور میں کئی جمعے ہوتے تھے اور وہ سب جمعے جائز ہوتے تھے کیونکہ دفاتر کو جمعہ کے دن چھٹی نہیں ملتی تھی۔ اور چونکہ مجہ مقدم ہے۔ اس لئے ملازم پیشیہ لوگ عموما آدھ گھنٹہ کی چھٹی لے کر دفاتر کے قریب ہی کہیں جمع ہو کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ایسے دو تین جمعے لاہور میں ہوتے تھے اور ہمیں کبھی اعتراض نہیں ہوا ۔ لیکن رتن باغ میں جمع ہونے والوں کو کونسی حکومت مجبور کرتی ہے کہ آدھ گھنٹہ کے اندر ہی نماز سے فارغ ہو کر واپس آجا کہ ما صرف اپنی چو ہد ریت جتانے کے لئے وہ ایسا کرتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعض دفعہ جب بیماری میں بیٹھے بیٹھے تھک جاتے تو فرماتے