خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 321

۳۲۱ اور ہمارے اس حالانکہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کم نہیں تھے اس لئے ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ ایسا کیوں ہوا ۔ ہم حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی ایک قربانی کی وجہ سے تو عید مناتے ہیں لیکن سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی قربانی کی وجہ سے عید نہیں مناتے۔ لانگا ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے نہ کہ اگر مسلمان عید مناتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شامل ہوں دور نہ آپ کی قربانی ایثار اور جو کام آپ نے کیا۔ اور جو عملی نمونہ آپ نے دکھایا ، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کم نہیں تھا بلکہ بہت زیادہ تھا۔ آج اس سوال کا جواب میں دیتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی وجہ سے ہم یہ عید کیوں مناتے ہیں۔ عید کے منانے پر وہ شبہات کسی طرح وارد نہیں ہوتے جوئیں نے وارد کئے ہیں۔ اس شبہ کا ازالہ کرنے کے لئے تم بائیبل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ بائیبل میں لکھا ہے کہ اللہ تعالے نے کہا۔ اسے ابراہیم نو اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر رہمارے نزدیک اکلوتے بیٹے سے مراد حضرت اسمعیل علیہ السلام ہیں عیسائیوں کے نزدیک حضرت اسحق علیہ السلام ہیں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بات کا اپنے بیٹے سے ذکر کیا اور اسے اور اسے راضی پا کر ساتھ لے گئے۔ اس ساتھ لے گئے۔ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور الٹا لٹا دیا۔ اور چھری نکالی تا اُسے خدائی حکم کے مطابق ذبح کریں لیکن بجائے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے ایک دنبہ ان کے سامنے پیش کیا گیا اور انہوں نے اسے ذ اپنے اسے ذبح کر دیا۔ اس طرح حضرت رح حضرت اسمعیل علیہ السلام بچے گئے جب حضرت اسمعیل علیہ السلام سے قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔ یا بقول با تبل حضرت اسحاق علیہ اسلام نے قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھایا تو اللہ تعالے نے کہا: اے ابراہ ابراہیم تو نے میری خاطر اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کیا ، دیکھ میں تیری ذریت کو بڑھاؤں گا۔ اور اسے پھیلاؤں گا جیسے ستارے نہیں گنے جاسکتے اسی طرح تیری ذریت بھی نہیں گئی جاسکے گی لیے پھیلنے کے معنے غالب طور پر پھیلنے کے ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کسی کا ایک بیٹا امریکہ چلا جائے، ایک افریقہ چلا جائے تو کہیں اس کی نسل پھیل گئی۔ پھیلنے کے تو یہ معنے ہوا کرتے ہیں کہ وہ قوم غلبہ یا بمنزلہ غلبہ حیثیت رکھتی ہو۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ابراہیمی نسل حضرت اسحق علیہ السلام کے ذریعہ تمام دنیا میں نہیں پھیل سکتی تھی ۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام جن کی طرف اکلوتا بیٹا کے الفاظ اشارہ کرتے ہیں۔ ان کی نسل بھی تمام دنیا میں نہیں پھیل سکتی تھی ، عملاً بھی حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل عرب میں ہی محدود رہی۔ اس کے پھیلنے کا وقت تب آیا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظاہر ہوئے ۔ اور آپ نے فرمایا ۔ مجھے سیاہ و سفید، سرخ اور زرد سب ہی ر کی طرف مبعوث کیا گیا ہے مجھے عربوں کی طرف بھی مبعوث کیا گیا ہے اور مجھے عجمیوں کی طرف بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو :