خطبات محمود (جلد 2) — Page 320
۳۳۰ منانا ایسا ہی مضحکہ خیر ہے جیسے مثلاً چنیوٹ یا احمد نگر میں کسی عام شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہو اور صوبہ میٹی کا گورنہ اس کی خوشی میں صوبہ بھر میں چھٹی کا اعلان کر دے۔ کیا کوئی شخص اس گورنر کو عقلمند قرار دے گا۔ اسی طرح حضرت اسمعیل کے بچائے جانے کا واقعہ ہے۔ ہم اس امر پر بھی خوشی نہیں منا سکتے کہ خدا تعالے نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قربانی کے اثرات سے بچا لیا۔ کیونکہ اس نے صرف حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ہی نہیں بچایا لیکہ ان کے علاوہ لاکھوں دوسرے اولیاء کو بھی بچایا ہے بر صحابی ابی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آ صلی اللہ علیہ و آلہ حکم پر ایمان لایا اور اور آپ کے کے ساتھ لڑائیوں میں شامل ہوا کیا اس کی جان معجزانہ طور پر نہیں بچی۔ چنانچہ خالد بن ولید جب وفات پانے لگے تو آپ روپڑ سے۔ ان سے ان کے ایک دوست نے کہا۔ آپ روتے کیوں ہیں، خدا تعالے کے رستے ہیں قربانی کرنے کی آپ کو غیر معمولی توفیق ملی ہے اس لئے جب آپ خدا تھا ۔ لے کے پاس جائیں گے تو انعام پائیں گے۔ خالد نے کہا۔ یہ بات نہیں، تم ذرا میرے پاؤں سے پاجامہ اُٹھا کر تو دیکھو کیا وہاں کوئی ایسا حصہ ہے جس پر تلوار کا نشان نہ ہو ۔ پھر دوسرے پاؤں سے پاجامہ اُٹھا کر دیکھو۔ ہاتھوں پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھوے پیٹھ کو ننگا کر کے دیکھو، میرا سینہ دیکھو، غرض سارا جسم دکھانے کے بعد کیا۔ میرے دوست کیا میرے جسم پر کوئی اپنی بھر بھی ایسی جگہ باقی ہے جس پر تلوار کا نشان نہ ہو۔ خالد یہ بیان کرنے کے بعد پھر رو پڑے اور کہا، میں نے خدا تعالیٰ کے رستہ میں شہادت پانے کے لئے اپنے آپ کو ہر قسم کے خطرات میں ڈالا چنا نچہ تم نے دیکھے ہی لیا ہے کہ میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ باقی نہیں جس پر تلوار کا نشان نہ ہو لیکن باوجود کوشش کے ہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا اور شہادت نصیب نہ ہوئی اور آج پلنگ پر مر رہا ہوں کے خالد نے ادب کی وجہ سے اس طرح بچ جانے کے اور معنے در معنے لئے ۔ انہوں نے ؟ نے سمجھا کہ شاید میں حیرت ہوں کہ مجھے با وجود کوشش شہادت کا رتبہ نہ مل سکا۔ لیکن ان کے دوست کی جگہ اگر میں ہوتا تو یہ کہنا کہ خالد یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کی جان تو خدا تعالے نے ایک دفعہ بچائی لیکن تمھیں خدا تعالے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے ہزاروں دفعہ موت سے بچایا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت سے ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب کہ خدا تعالے کی خاطر آپ نے قربانی کی اور آپ کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی حکم نہ تھی بلکہ زیادہ تھی ۔ پس سوال یہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے زیادہ تھی تو پھر آپ کی قربانی کی وجہ سے ہم کیوں عید نہیں منا تے بیشک عید الفطر محمدی عید ہے۔ اسلام سے قبل یہ عید عربوں میں نہیں منائی جاتی تھی عربوں میں صرف عید الاضحیہ رائج تھی۔ لیکن یہ عید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی مستربانی کی خوشی میں نہیں منائی جاتی