خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 320

٣٢٠ منانا ایسا ہی مضحکہ خیر ہے جیسے مثلاً چنیوٹ یا احمد نگر میں کسی عام شخص کے ہاں لڑکا پیدا ہوا در صوبہ میٹی کا گورنہ اس کی خوشی میں صوبہ بھر میں چھٹی کا اعلان کر دے۔کیا کوئی شخص اس گورز کی عقلمند قرار دے گا۔اسی طرح حضرت اسمعیل کے بچائے جانے کا واقعہ ہے۔ہم اس امر پر بھی خوشی نہیں منا سکتے کہ خدا تعالے نے حضرت آنفیل علیہ السلام کو قربانی کے اثرات سے بچالیا۔کیونکہ اس نے صرف حضرت اسمعیل علیہ السلام کو سی نہیں بچایا بلکہ ان کے علاوہ لاکھوں دوسرے اولیاء کو بھی بچایا ہے ہر صحابی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ کے ساتھ لڑائیوں میں شامل ہوا کیا اس کی جان معجزانہ طور پر نہیں بچی۔چنانچہ خالد بن ولید جب وفات پانے لگے تو آپ رو پڑے۔ان سے ان کے ایک دوست نے کہا۔آپ روتے کیوں ہیں، خدا تعالے کے رستہ ہیں قربانی کرنے کی آپ کو غیر معمولی توفیق ملی ہے اس لئے جب آپ خدا تھا لئے کے پاس جائیں گے تو انعام پائیں گے۔خالد نے کہا۔یہ بات نہیں تم ذرا میرے پاؤں سے پاجامہ اُٹھا کر تو دیکھو کیا وہاں کوئی ایسا حصہ ہے جس پر تلوار کا نشان نہ ہو۔پھر دوسرے پاؤں سے پاجامہ اُٹھا کر دیکھو۔ہاتھوں پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھوں، پیٹھ کو ننگا کر کے دیکھو، میرا سینہ دیکھو، غرض سارا جسم دکھانے کے بعد کیا۔میرے دوست کیا میرے جسم پر کوئی اپنے بھر بھی ایسی جگہ باقی ہے جس پر تلوار کا نشان نہ ہو۔خالد یہ بیان کرنے کے بعد پھر رو پڑے اور کہا: میں نے خدا تعالیٰ ے رستہ میں شہادت پانے کے لئے اپنے آپ کو ہر قسم کے خطرات میں ڈالا چنا نچہ تم نے دیکھے ہی لیا ہے کہ میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ باقی نہیں جس پر تلوار کا نشان نہ ہو لیکن با وجود گوش کے ہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا اور شہادت نصیب نہ ہوئی اور آج پلنگ پر مر رہا ہوں سے خالد نے ادب کی وجہ سے اس طرح بچ جانے کے اور معنے لئے۔انہوں نے سمجھا کہ شاید میں شہرت ہوں کہ مجھے باوجود کوشش شہادت کا رتبہ نہ مل سکا۔لیکن ان کے دوست کی جگہ اگر میں ہوتا تو یہ کہنا کہ خالد یہ کتنا بڑا معجزہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کی جان تو خدا تعالے نے ایک دفعہ بچائی لیکن تمھیں خدا تعالے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمہ کی برکت سے ہزاروں دفعہ موت سے بچایا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت سے ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب کہ خداتعاننے کی خاطر آپ نے قربانی کی اور آپ کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی کم نہ تھی بلکہ زیادہ تھی۔پس سوال یہ ہے کہ جب رسول کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی سے زیادہ تھی تو پھر آپ کی قربانی کی وجہ سے ہم کیوں عید نہیں مناتے بیشک عید الفطر محمدی عید ہے۔اسلام سے قبل یہ عید مربوں میں نہیں منائی جاتی تھی عربوں میں صرف عید الاضحیہ رائج تھی۔لیکن یہ عید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی مستر بانی کی خوشی میں نہیں منائی جاتی