خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 319

۳۲۹ کسی ابراہیم علیہ السلام کے ایمان اور تقوی پر کوئی شک و شبہ ہوسکتا ہے کہ شاید خدا تعالے کی خاطر آپ اپنے بیٹے کو قربان نہ کرتے ، مگر چونکہ آپ نے ایسا کر دیا اس لئے ہم خوش ہیں کیا ہم آپ کے مقام کو اپنے مقام سے ادنیٰ مقام سے ادنی سمجھتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ کا فضل ہو گیا کہ آپ کا قدم نہ ڈگمگایا پس یہ بات غلط ہے کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی وجہ سے یہ عید مناتے ہیں اور اگر ایسا نہیں تو ضرور اس کی کوئی اور وجہ ہے۔ اس عید کا منانا اور پھر ساری دنیا میں اس عید کا بنایا جانا کی خدائی فعل کی وجہ سے ہے اور خدائی فصل کی کوئی معقولی وجہ ہونی چاہئیے ۔ اسلام سے پہلے بھی تو عرب میں عید منائی جاتی تھی۔ در حقیقت یہ رچ کا ہی ایک حصہ ہے لوگ حج کرنے کے بعد خوشی مناتے تھے تھی۔ پھر اسلام کے زما زمانے سے یہ عید ساری دنیا میں منائی جانے لگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے یہ عید ساری دنیا کے لئے کر دی گئی۔ اور صرف ہم ہی یہ عید نہیں مناتے بلکہ ساری دنیا میں یہ عید منائی جاتی ہے۔ اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ بات یقینا نہیں که به خیر ہم اس لئے مناتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی بے ایمانی کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی ہم اس لئے عید مناتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی کی محض حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو قربان کر دیا گیا ہمارے لئے خوشی کا موجب ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو چار ہزار سال پہلے گزرا ہے ایک ایسا شخص جس کے ساتھ نہ ہمیں کوئی جسمانی رشتہ ہے اور نہ سیاسی ، پھر اس پھر اس کے ساتھ ہمیں کوئی تمدنی رشتہ بھی نی رشتہ بھی نہیں پھر اس کے اور ہمارے در میان اینکه ایک ا السیار ابر آجاتا ہے جس کی ضروت ہمارے دلوں میں اس سے زیادہ ہے جو خاتم ہے جو خاتم النبین ہے ، جو سید ولد آدم ہے۔ بلکہ جو سید الانبیاء ہے۔ پس گو وہ ا و وہ ایک قربانی کرتا ہے بے شک وہ بہت بڑی قربانی ہے لیکن ہم اس قربانی کی وجہ سے عید کیوں منائیں۔ پھر کیا ہم اس لئے خوشی مناتے ہیں ۔ کہ شاید حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی نہ کرتے ہم شکر کرتے ہیں کہ ان کو ٹھوک نہ لگی۔ یہ بات بالبداہت غلط ہے، ابراہیم علیہ السلام کے پایہ کے آدمی کو ٹھوکر لگ ہی نہ سکتی تھی ، ابو الانبیاء کا مقام یقیناً ٹھوکروں سے بہت اونچا تھا۔ غرض ہماری اس عید کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا یہ کہ ہم اس لئے عید مناتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے بیٹے کے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اسے ذبح کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا یا حضرت اسمعیل علیہ السلام قربان ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔ اور یا ہم اس لئے عید مناتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت امیل علیہ اسلام کو بچا علیہ السلام کو بچا لیا۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بھی ایسی بات نہیں جس کا براہ راست ہم سے تعلق ہو۔ یا اس کے واقع ہونے پر ہمیں خوشی کا حق پہنچتا ہو یا جو اتنی اہم ہو کہ اس کی مثال دوسرے انبیاء میں نہ پائی جاتی ہو۔ اس واقعہ پر ہمارا خوشی