خطبات محمود (جلد 2) — Page 318
۳۱۸ ۳۸ فرموده ۴ را کتوبر ۱۹۳۹ء بمقام ربوه) ه عید حبیبیا کہ دوستوں کو معلوم ہے عید الاضحیہ کہلاتی ہے یعنی قربانی کی عید اور قربانی کی عید کا لفظ جب بولا جاتا ہے تو اس کے دو ہی معنے ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ وہ عید جو بستر بانی کے نتیجہ میں منائی جاتی ہے اور دوسرے وہ عید جس کے نتیجہ میں قربانی کی جاتی ہے۔ اضافت دونوں قسم کے معنوں پر دلالت کرتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس حملہ میں یہ لفظ دونوں قسم کی حیثیتیں اپنے اندر رکھتا ہے۔ پرده کسی بڑی قربانی کی توفیق پانے پر ہی عید حاصل ہوتی ہے ۔ اور خوشی حاصل ہونے کے شکریہ میں بھی مہربانی کی جاتی ہے۔ یہ عید اس یاد میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اگر اپنے بیٹے کی قربانی کی تو نہیں کس بات کی خوشی ہے۔ قربانی کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور قربان ہونے والے حضرت اسمعیل علیہ السلام - ہم اس بات پر کسی خوشی کا اظہار نہیں کر سکتے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا تعالے نے توفیق بخشی اور آپ نے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو اس کی خاطر قربان کر دیا ۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ہمارے زمانہ میں ایک لمبا فاصلہ ہے۔ اور اتنے لمبے عرصہ تک اس واقعہ کی یاد کو تازہ رکھنا کوئی معقول بات نہیں کہا سکتی۔ دوسرے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی پر اس لئے بھی خوشی کا اظہار نہیں کر سکتے کہ آپ ایمان اور تقویٰ میں بہر حال ہم سے زیادہ تھے اور ہم یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ شاید وہ یہ قربانی نہ کرتے یا ان کے قدم ڈگمگا جاتے ، شکر ہے ایسا نہیں ہوا ۔ اس طرح تو یہ عید عید نہیں بلکہ شک ، تذبذب اور بے ایمانی سے بچنے پر اظہار ہوتی ہے کیا ہم اس وجہ سے عید مناتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صلح حدیدی لینے کے موقعہ پر کفار کے مقابلہ میں خوب ڈٹے رہے یا کیا ہم اس بات کی عید منایا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے جب آپ کو دنیاوی لالچ دیا تو آپ ان کے لالچ میں نہ آئے اور اپنے مقصد کے پورا کرنے میں آپ نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی یا کیا ہم اس لئے عید مناتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے پے درپے اپنی اولادوں کو خدا تعالے کی خاطر قربان کیا بلکہ خود اپنی جانوں کے دینے میں بھی دریغ نہ کیا۔ پس نہ توحضرت ابراہیم علیہ اسلام کی قربانیاں رسول کریم ملی شد علیہ وآلہ وسلم کی قربانیوں سے زیادہ ہیں کہ ہم ان کی خاطر عید مناتے ہیں۔ اور نہ ہمیں حضرت