خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 313

۳۱۳ نیک آدمی ہوں تو میں ان پر اپنا عذاب نازل نہیں کروں گا ۔ تب ابراہیم نے سمجھا کہ اگر اسی نہیں توستر تو ان میں ضرور نیک ہوں گے اور اس نے کہا۔ خدا یا استی کیا اور ستر کیا ۔ اگر ستر بھی نیک نکل آئیں تو آخر یہ بھی تو ایک بڑی تعداد ہے۔ اللہ تعالے نے کیا۔ ابرا هستیم! اگر ان میں سنتر بھی نیک آدمی ہوں تو میں ان کو تباہ نہیں کروں گا۔ اس طرح گفت گو ہوتے ہوتے حضرت ابراہیم نے کہا کہ خدا یا اگر ان میں میں نیک آدمی ہوئی تو کیا ان سب کا لحاظ نہیں کرے گا۔ اور اس بستی کو تباہ کر دے گا ۔ اللہ تعالے نے کہا اگر اس بستی میں بنتیں بھی نیک آدمی ہوں تب بھی میں اسے تباہ نہیں کروں گا تب ابراہم نے یہ مجھ کہ کہ اس بستی میں بلین آدمی نہیں ہیں کہا، خدایا ! اگر ان میں میں نیک آدمی موجود ہوں تو کیا ان دس کا لحاظ نہیں رکھا جائیگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسے ابراہیم اگر ان میں دس بھی نیک آدمی ہوں تو میں ان کو تباہ نہیں کروں گا۔ تب ابو اسیم خاموش ہو گیا اور اس نے سمجھ لیا کہ ان بستیوں میں دس بھی نیک آدمی نہیں ہیں اور یہ اس قابل ہیں کہ ان کو عذاب سے تباہ کر دیا جائے ہیں تو دیکھو کچھ افراد کی نسبت بھی ایک قابل لحاظ نسبت ہوتی ہے۔ اگر وہ نسبت پوری ہو جائے تو قوم پر سے الزام دور ہو جاتا ہے۔ اور اگر پوری نہ ہو تو ساری قوم اللی مواخذہ کے نیچے آجاتی ہے۔ ہماری جماعت کو بھی غور کرنا چاہئیے کہ کیا قربانی کے لحاظ سے اس کے افراد کے اندر وہ نسبت پائی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رکھنے والی ہوتی ہے۔ اگر نہیں تو یہ کتنے بڑے خون کا مقام ہے کہ وہ دعوئی تو ایمان کا کرتے ہیں اور عمل وہ کرتے ہیں جو المیان کے خلاف ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اب بھی اس واقعہ کے بعد جب کہ جماعت اس قربانی میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے اور وہ اپنی اولادوں کو اس رنگ میں خدمت دین کے لئے پیش کرنے کو تیار نہیں ہوتی اور اگر پوچھا جائے کہ کیا تم خدا کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار ہو تو تم سب کھڑے ہو کر کہنے لگ جاؤ گے کہ ہاں جی ہم تیار حالانکہ واقعہ یہ ہو گا کہ تم اول درجہ کے مجرم ہو گے کے مجرم ہو گے ۔ یہ تو دیسی ہی بات ہو گی جیسے خلیخانہ میں کو ئی شخص تقریر کرے اور کہئے کہ چوری نہیں کوئی چاہیئے تو تمام چور کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ ہاں ہاں چوری ہرگز نہیں کرنی چاہیے ، ہم چوری کو بہت برا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ چور تو چوری کر چکا، اب اس کا یہ کہنا کہ چوری نہیں کرنی چاہئیے کیا حقیقت رکھتا ہے۔ اسی طرح جس فعل کے تم مرتب ہو چکے ہو اس کے بعد تمہارا یہ کہنا کہ ہم اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اس سے زیادہ جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے۔ حالانکہ مومن کی حالت تو یہ ہوئی ہے۔ کہ اگر کوئی ایسی جگہ پیدا ہو جو وادی غیر ذی زرع کا سارنگ رکھتی ہو تو اس کا دل خوشی سے اُچھلتے لگتا ہے ۔ اور وہ سمجھتا ہے کہ آج مجھے خدا کا شکر ادا کرنا چاہئیے کہ اس نے مجھے بھی ابراہیمی نمونہ دکھانے کا موقعہ دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے میں نے یہ عہد کیا ہوا ہے ہیں۔